پاکستانی اسکالر چین میں ماحول دوست ترقی کی راہ پر گامزن

تیانجن (شِنہوا) پاکستانی اسکالر محمد سلمان ناصر نے صبح 7 بجکر 30منٹ پر ایک چینی ساختہ نئی توانائی والی گاڑی سے اپنے بڑے بیٹے کو اسکول پہنچایا جو دوسری جماعت میں پڑھتا ہے۔ناصر نے کہا، "میں نے یہ پلگ-ان ہائبرڈ الیکٹرک گاڑی پچھلے سال خریدی۔ میں عموماً بچوں کو اسکول پہنچانے اور کام پر جانے کے لیے اسے استعمال کرتا ہوں۔ اب چین میں نیو انرجی گاڑیاں ہر جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ نہ صرف کم کاربن اور ماحول دوست ہیں بلکہ سفر کے لیے بہت سہولت بخش بھی ہیں۔37 سالہ ناصر تیانجن یونیورسٹی کے اسکول آف مکینیکل انجینئرنگ میں بطور ایسوسی ایٹ ریسرچر کام کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق جدید کیٹلیٹک ٹیکنالوجیز، ہائیڈروجن کی صاف پیداوار، کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال، پلاسٹک کے فضلے کی ری سائیکلنگ اور قابلِ تجدید توانائی کے نظام پر مبنی ہے۔چین میں تقریباً ایک دہائی گزارنے کے دوران انہوں نے ملک کے ماحول دوست اور کم کاربن منتقلی کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ کیا، جس میں سولر اور ونڈ پاور کی نصب شدہ صلاحیت میں تیزی سے اضافہ، الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ہائیڈروجن اور توانائی ذخیرہ ٹیکنالوجیز میں مسلسل پیش رفت شامل ہیں۔ ماحول دوست عمارتیں، کم کاربن ٹرانسپورٹ اور شہروں میں اسمارٹ انرجی مینجمنٹ بھی کامیاب نتائج دے رہی ہیں۔ناصر نے کہا، "چاہے یہ کم کاربن طرزِ زندگی کو وسیع طورپر اپنانا ہو، نئی توانائی کی صنعتوں کا عروج ہو، یا پائیدار ٹیکنالوجیز میں مسلسل پیش رفت ہو، میں بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی تحقیقاتی کیریئر کے لیے چین میں رہنے کا انتخاب کیا۔ناصر 2017 میں پہلی بار چین آئے اور اس کے بعد انہوں نے شی آن جیاؤ تونگ یونیورسٹی اور شنگھائی جیاؤ تونگ یونیورسٹی میں بالترتیب پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق مکمل کی اور آخرکار تیانجن یونیورسٹی کو طویل مدتی ترقی کے لیے منتخب کیا۔انہوں نے کہا، "چین میں رہنا صرف علمی دلچسپی کے لیے نہیں، بلکہ چین قومی ترقیاتی حکمت عملیوں کو سائنسی تحقیق کے ساتھ قریب سے مربوط کرتا ہے۔ کاربن پیک اور کاربن نیوٹریلٹی کے اہداف کے تحت یہ محققین کو واضح سمت اور مستحکم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو طویل مدتی، منظم سائنسی تلاش کے لیے مفید ہے۔چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں ماحول دوست ترقی کے اہداف بیان کیے گئے ہیں، جیسے "صاف، کم کاربن، محفوظ اور مؤثر نئی توانائی کے نظام کی ابتدائی تشکیل” اور "گردشی معیشت کی ترقی کو فروغ دینا۔یہ بہت اہم ہے کیونکہ کاربن نیوٹرلٹی ایک عالمی چیلنج ہے جو دنیا بھر کے ممالک کی مشترکہ اختراع کا تقاضا کرتا ہے اور چین ایک اچھا مثال قائم کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی توانائی کا نظام قائم کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ روایتی فوسل فیولز سے لے کر نئی توانائی پر مبنی توانائی کے نظام میں گہری تبدیلی آئے۔ اس کے لیے تکنیکی اختراع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور مارکیٹ میکانزم میں اصلاحات کا ہم آہنگ ارتقاء ضروری ہے۔ سرکلر اکانومی کی ترقی وسائل کے مؤثر استعمال اور فضلے میں کمی کا ایک اہم راستہ ہے جو وسائل اور ماحولیاتی دباؤ کو کم کر سکتی ہے۔ناصر کا ماننا ہے کہ ان اہداف پر عمل درآمد نہ صرف چین کی ماحول دوست منتقلی کو تیز کرے گا بلکہ عالمی ماحولیاتی ردعمل اور پائیدار ترقی میں چین کی دانش اور حل بھی پیش کرے گا۔ناصر کی تحقیق کا شعبہ چین کے 15 ویں 5 سالہ منصوبے کے اہداف کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ ہے۔ وہ تیانجن یونیورسٹی میں شمسی توانائی سے چلنے والی کیٹلیٹک ٹیکنالوجیز کو مزید ترقی دینے، تجربہ گاہ کے پروٹوٹائپ کو عملی مظاہروں میں تبدیل کرنے اور ماحول دوست ہائیڈروجن اور کاربن منفی ترکیبی ٹیکنالوجیز کی اقتصادی کارکردگی اور استحکام کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا، "تیانجن یونیورسٹی میں، میں صرف تجربات نہیں کر رہا بلکہ ایک بڑے اقدام کا حصہ ہوں جو چین اور دنیا کی ماحول دوست منتقلی کے مطابق پائیدار توانائی کے حل کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس مقصد کے احساس اور یونیورسٹی کی ابتدائی کیریئر کے محققین پر سرمایہ کاری نے واضح کر دیا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں میں طویل مدتی طور پر بڑھ سکتا ہوں اور بامعنی کردار ادا کر سکتا ہوں۔تیانجن یونیورسٹی قومی حکمت عملیوں اور صنعتی ضروریات کے ساتھ فعال طور پر ہم آہنگ ہے اور ان کا کالج تحقیق کے نتائج کو کئی کامیاب طریقوں سے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہا ہے جس سے سائنسی ترقی واقعی حقیقی معیشت کی خدمت کر سکتی ہے۔روزمرہ زندگی میں ناصر نے ماحول دوست ترقی کے اثرات بھی محسوس کیے۔ انہوں نے کہا، "اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہوا کی معیار بہت اچھی ہے، کیونکہ چین نے کاربن نیوٹریلٹی میں بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر آپ چین بھر میں سفر کریں تو صحرا یا پہاڑوں میں سولر فارم، اور ساحلی یا دیہی علاقوں میں پون چکیاں دیکھ سکتے ہیں۔ پائیدار ترقی کو اقتصادی اور سماجی نظام میں بے مثال پیمانے پر شامل کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھی چین سے سیکھ سکتی ہے۔ناصر کے خیال میں چین قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور مشن پر مبنی تحقیق کے ذریعے عالمی کاربن نیوٹریلٹی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اہم قوتیں قومی پالیسی کو علمی اور صنعتی اختراع کے ساتھ مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ماحول دوست ہائیڈروجن، سولر فیولز اور کاربن کیپچر جیسی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔آئندہ کے لیے ناصر منصوبہ رکھتے ہیں کہ وہ ماحول دوست ہائیڈروجن کی پیداوار اور کاربن منفی کیمیائی سنتھیسز کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والی قابل توسیع ٹیکنالوجیز پر تحقیق کو آگے بڑھائیں جس میں تجربہ گاہ کے پروٹوٹائپ سے مربوط پائلٹ سسٹمز کی جانب منتقلی پر خاص زور دیا جائے گا۔انہوں نے کہا، "میں مضبوط ارادہ رکھتا ہوں کہ ہماری تجربہ گاہ کے کام کی بنیاد پر بین الاقوامی تحقیقی تعاون کو فروغ اور وسعت دوں ۔ میرا یقین ہے کہ کاربن نیوٹرلٹی ایک عالمی چیلنج ہے جس کے لیے مشترکہ اختراع ضروری ہے اور میں دنیا بھر کے شراکت داروں خاص طور پر ترقی پذیر علاقوں میں شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ صاف توانائی کے ایسے حل مل کر تیار کیے جا ئیں جنہیں ضرورت کے مطابق ڈھالا جا سکے ، علم کا تبادلہ کیا جائے اور صفر کاربن کے مستقبل کی طرف ایک مشترکہ، جامع راستے میں حصہ ڈالا جا سکے۔ناصر کے لیے چین میں تحقیق کرنا صرف علمی مشغلے کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منتقلی میں حصہ لینے اور سائنس و ٹیکنالوجی کی طاقت سے انسانی ترقی کی خدمت کرنے کا عملی اقدام ہے۔انہوں نے آخر میں کہا، "میں تعلیمی اور صنعتی حلقوں کے ساتھ قریبی کام جاری رکھوں گا تاکہ چین کی ماحول دوست ترقی کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔”

Comments (0)
Add Comment