اسلام آباد/نیویارک: سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور اکرم مسیح گل نے وفاقی آئینی عدالت کی طرف سے کمسن مسیحی لڑکی ماریا کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ایک مسلم مرد شہریار کے ساتھ اس کی شادی کو جائز قرار دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت اس کیس پر نظر ثانی کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیویارک میں اپنی رہائش گاہ پر بشپ یوسف ندیم بھنڈر، سابق ایم پی اے پرویز رفیق ، پاسٹر روبن یامین اور اظہر عبداللہ سے ملاقات کے دوران کیا ۔ اکرم گل نے کہا کہ اس کیس میں ںپنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس2026کو نظر انداز کیا گیا جس کے تحت شادی کی کم ازکم عمر 18سال مقرر کی گئی ہے اور کم عمری کی شادی کو ایک ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے ، عدالت کا 18سال کی قانونی حد کو نظر انداز کر کے محض ’’بلوغت‘‘ کو بنیاد بنانا اقلیتی بچوں کو قانون کے تحفظ سے محروم کرنے کے مترادف ہے ۔اکرم گل نے مزید کہا کہ ایک کمسن بچی قانونی اور ذہنی طور پر اتنی پختہ نہیں ہوتی کہ وہ اغواکار کی تحویل میں رہتے ہوئے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے کا فیصلہ کرسکے ،یہ عمل مسیحی روایات اور اقدار کی’’نسل کشی‘‘کے مترادف ہے ۔واضح رہے وفاقی آئینی عدالت نے 18 سال سے کم مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی نے اسلام قبول کرکےشہریار نامی لڑکے سے شادی کی تھی۔لڑکی کے والد نے اغوا کا مقدمہ درج کروایا جسے خارج کر دیا گیا تھا،ماریہ کےوالد نےحبس بیجا کی درخواستیں بھی دائر کیں جو آئینی عدالت سے خارج ہو گئیں۔ سابق وفاقی وزیر برائےاکرم مسیح گل نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اس کیس کو دوبارہ کھولنے اور ازسرِ نو جائزہ لینے کی اپیل کی۔