بیجنگ : 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے پہلے سال میں، چین کی پہلی معاشی کارکردگی رپورٹ سامنے آ گئی۔ چائنا کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن، اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن، نیشنل انفارمیشن سینٹر آف نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن اور دیگر محکموں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے فروری تک چین کی درآمدات وبرآمدات میں سال بہ سال 18.3 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، ہائی ٹیک صنعتوں کے سیلز ریونیو میں 16.1 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ فروری میں سی پی آئی میں سال بہ سال1.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ نئے انفراسٹرکچر میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اورای وو انٹرنیشنل ٹریڈ سٹی میں صارفین اور آرڈرز دونوں میں اضافےکے ساتھ، توقع سے زیادہ بہتر اعداد و شمار کا یہ سلسلہ جدت کی مضبوط محرک قوت، ٹھوس گھریلو طلب، اور غیر ملکی تجارت میں لچک کا نمایاں منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ یہ متاثر کن آغاز نہ صرف چینی معیشت کی اندرونی قوت کو ثابت کرتا ہے بلکہ غیر ملکی میڈیا اور بین الاقوامی ماہرین نے بھی اسے "ہنگامہ خیز عالمی معیشت میں یقین کا ایک روشن مقام” قرار دیاہے، جس نے عالمی اقتصادی بحالی میں مضبوط قوت محرکہ فراہم کی ہے۔مضبوط اختراع معاشی کارکردگی کے اچھے آغاز کا بنیادی انجن بن گیا ہے۔ سال کی شروعات سےہی تکنیکی جدت طرازی اور صنعتی انضمام کی رفتار میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ ٹیکسیشن ایڈمنسٹریشن کے ٹیکس ڈیٹا کے مطابق، جنوری اور فروری میں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک سروس دونوں صنعتوں نے ڈبل ڈیجٹ ترقی حاصل کی، مصنوعی ذہانت سے متعلق پیٹنٹس کی تعداد میں 26 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا، اور کمپیوٹنگ پاور سینٹرز جیسے جدید شعبوں میں سرمایہ کاری میں سال بہ سال 60.5 فیصد کااضافہ ہوا۔ ای وو مارکیٹ میں اے آئی سے چلنے والے صحت کی دیکھ بھال کے روبوٹس کی پیشکش سے لے کر انٹیگریٹڈ سرکٹس کی برآمدات میں سال بہ سال 72.6 فیصد اضافے تک، اختراعی ثمرات کے تیزی سے اطلاق کے پیچھے ہائی ویلیو ایڈڈ انڈسٹری چین میں چائنا کے مسلسل بڑھتے ہوئے مقام کی عکاسی ہوتی ہے۔ آئی این جی گروپ میں گریٹر چائنا کے چیف اکانومسٹ سونگ لین نےاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات میں 26.9 فیصد شرح نمو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ چین "میڈ اِن چائنا” سے "چین میں اسمارٹ مینوفیکچرنگ” کی طرف مسلسل بڑھ رہا ہے۔ در حقیقت ، مرکزی برآمدی زمروں کی قدر میں شرح نمو مقدار کی شرح نمو سے زیادہ ہے، جو کم قیمت پر مسابقت کے خدشات کو مزید کم کرتا ہے۔ٹھوس گھریلو طلب مستحکم معاشی آپریشن کے لئےمضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اسپرنگ فیسٹیول کی طویل تعطیلات کے دوران صارفی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ، جس کی بدولت فروری کے سی پی آئی میں سال بہ سال اور ماہ بہ ماہ دونوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ائیر ٹکٹس اور سیاحتی رہائش سمیت دیگر خدمات کی کھپت میں نمایاں ترقی ہوئی، جبکہ آف لائن کھپت اور مائیکرو مرچنٹس کی جانب سے ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ "ٹریڈ ان” جیسی پالیسیوں نے رہائشیوں کی کھپت کی صلاحیت کو مزید متحرک کیا ہے۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی متعدد مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں: ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر اور شہری تجدید جیسے ذریعہ معاش کے منصوبوں کی تعمیر کی رفتار تیز ہوئی، بندرگاہوں اور سڑکوں کے آلات کے استعمال کی شرح اور ورک لوڈ دونوں میں اضافہ دیکھا گیا، نئے انفراسٹرکچر اور جدید فیلڈز سرمایہ کاری کے مراکز بن گئے، اور سرمایہ کاری میں مؤثر اضافہ دیکھنے میں آیا۔اشیاء کی قیمتوں کے اعداد و شمار میں مثبت تبدیلیاں، صارفی منڈی کی مستحکم بحالی نیز موثر سرمایہ کاری کا درست نفاذ، یہ تینوں پہلو بیک وقت زور پکڑ رہے ہیں، جو چینی معیشت کی مضبوط گھریلو طلب کی صلاحیت اور ترقی کی لچک کو ظاہر کرتے ہیں۔غیر ملکی تجارت میں نمایاں لچک عالمی اقتصادی بحالی کے لیے اہم سہارا فراہم کرتی ہے۔ سست عالمی اقتصادی بحالی اور پیچیدہ اور غیر مستحکم تجارتی منظر نامے کے پس منظر میں،چین کی غیر ملکی تجارت میں مستحکم کارکردگی قابل ستائش ہے۔ جنوری سے فروری تک چین کی اشیاء کی درآمد ات و برآمدات میں سال بہ سال 18.3 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ آسیان اور یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں بالترتیب 20.3 فیصد اور 19.9 فیصد کا اضافہ ہوا اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے شراکت دار ممالک کے ساتھ درآمدات اور برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ بھارت، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ سے درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور اشیاء کی تجارت کے سب سے بڑے ملک کی حیثیت سے، چین کی غیر ملکی تجارت کی متاثر کن کارکردگی نہ صرف ملکی طلب کی مسلسل بحالی کی تصدیق کرتی ہے بلکہ درآمدات بڑھانے میں چین کے اخلاص اور ٹھوس اقدامات کو بھی ظاہر کرتی ہے، جس سے غیر یقینی صورتحال سے بھری عالمی معیشت میں قابل قدر یقین پیدا ہوتا ہے۔آغاز پورے عمل کا تعین کرتا ہے ۔ جنوری اور فروری میں چین کی معیشت میں تین مثبت اشارے جدت ، گھریلو طلب اور کھلے پن کی مربوط کوششوں کا فطری نتیجہ ہیں،جنہیں بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی وسیع پذیرائی ملی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی نظر سے "عالمی سپلائی چین کے مستحکم مرکز” سے لے کر بین الاقوامی ماہرین کی زبان میں "یقین کے ایک نایاب ذریعے” تک،اس سال چینی معیشت کے متاثر کن آغاز نے نہ صرف 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے لئے ترقی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے، بلکہ عالمی تجارتی شراکت داروں کو چینی مارکیٹ کے منافع میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ جدت طرازی کی مسلسل حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اور گھریلو طلب کی صلاحیت اور کھلے پن کو بڑھا تے ہوئے ،چین کی معیشت یقیناً اعلیٰ معیار کی ترقی کی راہ پر گامزن رہے گی اور عالمی اقتصادی بحالی میں مسلسل نئی توانائی فراہم کرتی رہے گی۔