فوجی تصادم میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے، چینی ایلچی

بیجنگ :چینی حکومت کے امور مشرق وسطی کے خصوصی ایلچی زائی جون نے بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات کی ۔جمعہ کے روز راشد الزیانی نے کہا کہ بحرین ہمیشہ امن پسند ملک رہا ہے اور مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور ترقی و خوشحالی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، اسے بے بنیاد حملوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو بین الاقوامی برادری کی آواز سننی چاہیے، فوری طور پر خلیج کے عرب ممالک پر حملے بند کرنے چاہئیں، اور بین الاقوامی جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیئے ۔ راشد الزیانی نے کہا کہ بحرین چین کے منصفانہ موقف کو بہت سرا ہتا ہے اور چینی ایلچی کے خطے میں ثالثی کے لیے دورے کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحرین چین کے ساتھ مل کر فوری طور پر جنگ بندی اور خطے میں استحکام اور امن کی بحالی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔زائی جون نے کہا کہ چین ہمیشہ خطے کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں رہا ہے اور بے مقصد طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ فوجی تصادم میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے، توانائی، معیشت، روزمرہ زندگی جیسے غیر فوجی اہداف پر حملہ نہیں ہونا چاہیے اور جہاز رانی کی حفاظت کو خطرہ نہیں پہنچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلا تفریق طاقت کے استعمال کے عمل کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ خطے میں تناؤ میں مسلسل اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے ۔ زائی جون نے کہا کہ فوری ضرورت یہ ہے کہ فوراً فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے تاکہ جنگ کے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے ۔

Comments (0)
Add Comment