بیجنگ :رواں سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سال چین کی 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں نظرثانی کے لیے پیش کردہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا خاکہ مختلف حلقوں کی خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ چین میں مالدیپ کے سفیر فضیل نجیب کا کہنا ہے کہ چین کی مجموعی ترقی میں تسلسل اور استحکام کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ میں اس حقیقت سے دل کی گہرائیوں سے متاثر ہوں کہ چین ہمیشہ سے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کررہا ہے۔ چین میں کرویشیا کے سفیر ڈاریو میہلین کا کہنا ہے کہ ہمیں واضح احساس ہے کہ چین تیز رفتار ترقی کے مرحلے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں منتقل ہورہا ہے، جس میں صنعتی ترقی اور تکنیکی جدت پر زور دیا جا رہا ہے، اور یہ دراصل سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی مسلسل کامیابیوں کی ایک جھلک ہے۔ چین میں گھانا کے سفیر کوجو بونسو نے کہا کہ ہم توانائی کے شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ عالمی سبز ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ چین کے دو اجلاسوں نے دنیا کے سامنے چین کے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور گھانا کو چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس سال کے دو اجلاسوں سے ملنے والا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ چینی حکومت عوام کے ذریعہ معاش نیز لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کو اپنے پالیسی فوکس کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا میں رابرٹ مورس یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر انتھونی مورٹی نے کہا کہ جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ ہے کہ چینی صدر اور چینی حکومت نے عوام کی زندگیوں کو مسلسل بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض مباحث میں بچوں کی پرورش کرنے والی ماؤں کے لیے انشورنس کوریج اور فلاحی سہولتوں کی فراہمی جیسے اقدامات زیرِ غور آئے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پالیسی چینی خاندانوں کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتی ہے کہ حکومت ان خاندانوں کے معاشی بوجھ کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ پولینڈ کے سابق وزیر اقتصادیات پیوٹر ووزنیک نے کہا کہ چین جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ ان کے مطابق گاڑیوں کی صنعت اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اگر کوئی الیکٹرک کار خریدنے پر غور کر رہا ہے تو چینی برانڈ اس کا پہلا انتخاب ہو گا۔ جنوبی افریقہ میں یونیورسٹی آف دی ویسٹرن کیپ کے وائس چانسلر میٹ مادیبا نے کہا کہ چین کی تکنیکی خود انحصاری عالمی سطح پر ایک قابل قدر تجربہ بن رہی ہے۔