چین دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے، چینی نمائندہ

جنیوا: ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ہفتہ کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں چین کے مستقل نمائندے جیا گوئی ڈہ نے چین کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی طور پر ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ چین انسانی حقوق کے بہانے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے، انسانی حقوق کے معاملات پر دوہرے معیار کے خلاف ہے، اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا دھمکی کی مخالفت کرتا ہے۔ چین بات چیت کے ذریعے اختلافات کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب، ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے حملے کو "ایران کے خلاف مکمل جنگ” تصور کرے گا اور اس کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، اور ایرانی فوج "بدترین صورتحال” کے لیے تیار ہے، جبکہ ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جنوری کو کہا تھا کہ ایک "بڑا بحری بیڑا” مشرقِ وسطیٰ کے سمندری علاقوں کی جانب روانہ ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر 24 تاریخ کو اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں اور اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کریں گے۔ فریقین غزہ اور ایران سمیت اہم مسائل پرتبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر بریڈ کوپر 24 تاریخ کو اسرائیل پہنچ رہے ہیں اور سینئر اسرائیلی حکام سے بات چیت کریں گے۔

Comments (0)
Add Comment