چین کا اثر و رسوخ دنیا کے تمام شعبوں تک پھیلا ہوا ہے، صدر ورلڈ اکنامک فورم

بیجنگ :ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی "گلوبل رسکس رپورٹ 2026” کے مطابق، 2026 میں جغرافیائی اقتصادی تصادم دنیا کو درپیش ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ فورم کے سالانہ اجلاس سے قبل ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورج برینڈے نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی سب سے مشکل جغرافیائی سیاسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن عالمی معیشت نے مضبوط لچک کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 2017 میں ڈیووس فورم میں چینی صدر شی جن پھنگ کی تقریر حوصلہ افزا تھی۔ چین نے ہمیشہ "دوسروں کےساتھ مل کر کام کرنے” کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ آج ہم جن چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ان کو صرف مشترکہ کوششوں سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔برینڈے نے کہا کہ ایک انتہائی مربوط عالمی معیشت میں، "ڈی کپلنگ” کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ممالک اپنے دوست ملکوں کے ساتھ تجارت کرتے ہیں اور تجارتی تنوع کو فروغ دیتے ہیں۔ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر، چین کا اثر و رسوخ دنیا کے تمام شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ برینڈے نے خیال ظاہر کیا کہ چین کی اصلاحات اور کھلے پن سے نہ صرف چینی معیشت مضبوط ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں بلکہ غربت کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ جو کام سوئٹزرلینڈ کو کرنے میں ایک صدی لگی، چین نے صرف تیس سالوں میں کر لیا۔ گزشتہ تیس سالوں میں چینی عوام کے معیار زندگی میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ ترقی واقعی حیران کن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین اپنی ترقی میں درپیش مسائل اور چیلنجوں سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ چین کی ایک منفرد برتری یہ ہے کہ یہاں اپنے پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے ملک کے وسائل کو دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ مؤثر طریقے سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ اب چین ٹیکنالوجی کے بہت سے شعبوں میں دنیا میں پیش پیش ہے، اور اس کی قابل تجدید توانائی کی ترقی سرفہرست ہے۔اس خصوصی انٹرویو میں برینڈے کا ماننا تھا کہ چین کی معیشت توانائی سے بھرپور ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ چین ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید گہرا کرےگا تاکہ عالمی اقتصادی استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر مضبوط قوت محرکہ فراہم کی جائے۔

Comments (0)
Add Comment