چین میں 5.0 فیصد شرحِ نمو کی حقیقی اہمیت اور نئے مواقع ، چینی میڈیا


بیجنگ : چین کی جانب سے 2025 میں 5.0 فیصد معاشی شرحِ نمو کے باضابطہ اعلان کے بعد، عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی حلقوں نے چینی معیشت کی کارکردگی کو "توقعات سے بہتر” اور "غیر معمولی لچک” جیسے الفاظ میں سراہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین کی مجموعی قومی پیداوار پہلی مرتبہ 140 ٹریلین یوآن کی تاریخی سطح عبور کر گئی، جبکہ اقتصادی و سماجی ترقی سے متعلق اہم اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے۔ یہ پیش رفت نہ صرف”چودھویں پانچ سالہ منصوبے” کی کامیاب تکمیل کی علامت ہے بلکہ "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے لیے مضبوط اور مستحکم آغاز کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو چین کی اقتصادی شرحِ نمو دنیا کی بڑی معیشتوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ چین اس وقت عالمی معیشت کے لیے سب سے مستحکم اور قابلِ اعتماد محرک کے طور پر ابھرا ہے، اور عالمی اقتصادی ترقی میں اس کا شیئر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ حالیہ عرصے میں متعدد بین الاقوامی اداروں نے چین کی اقتصادی نمو سے متعلق اپنی پیش گوئیوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ جے پی مورگن اور بلیک راک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے چینی اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھانا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی منڈی چین کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔چین کی رین من یونیورسٹی کے پروفیسر وانگ شیاوسونگ کے مطابق، اس کامیابی کی بنیادی وجہ اختراعات پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے، جس کے تحت نئے معیار کی پیداواری قوتوں کو فروغ دے کر معیشت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کی جانب سے بروقت اور اہدافی پالیسی اقدامات نے بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اندرونی طلب کو مؤثر انداز میں متحرک کیا گیا، اور صارفی اخراجات نے اقتصادی ترقی میں 50 فیصد سے زائد حصہ ڈالا۔چینی معیشت کی یہ مضبوط لچک اور کھلے پن کو مزید وسعت دینے کے لیے حکومت کے عزم نے دنیا کو یہ یقین دلایا ہے کہ مستقبل میں بھی چین عالمی معیشت کے لیے "ترقی کا انجن” اور "اختراع کا مرکز” بنا رہے گا، اور عالمی اقتصادی بحالی و ترقی میں اس کا کردار بدستور کلیدی رہے گا۔

Comments (0)
Add Comment