بیجنگ : فرانز کافکا کے ناول "میٹامورفوسس” کا مرکزی کردار گریگور سامسا ایک صبح بیدار ہوتا ہے تو خود کو ایک بھونرے میں تبدیل پاتا ہے ۔ یہ پراسرار صورتحال ادب میں مضحکہ خیزی اور بیگانگی کی انتہائی علامت سمجھی جاتی رہی —یعنی جب روزمرہ منطق ٹوٹ جائے اور انسان ایک غیر مرئی نظام میں اجنبی وجود بن کر رہ جائے۔ مگر گزشتہ ایک سال پر نگاہ ڈالی جائے تو احساس ہوتا ہے کہ حقیقت کی مضحکہ خیزی اب افسانوی تخیل سے کہیں آگے نکل چکی ہے، اور وہ زیادہ بے نقاب، زیادہ بے لگام انداز میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، یہاں تک کہ ادبی تخیل بھی اس کے سامنے ماند پڑ گیا ہے۔امریکی حکومت کی کارروائیوں کو سال کے سب سے بڑے مضحکہ خیز ڈرامے کا "مرکزی ہیرو” قرار دیا جا سکتا ہے: اس نے عالمی سطح پر تجارتی جنگ چھیڑی، گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دی، کینیڈا کو اپنے ساتھ ملانے کی بات کی۔علاوہ ازیں ، دوسرے ملک کے رہنما کو گرفتار کیا اور سرحد پار طاقت کے استعمال کو”عدالتی انصاف” کے خوش نما لبادے میں پیش کیا ۔ یہاں تک کہ اس کے رہنما کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ "مجھے صرف میری اپنی اخلاقیات محدود کر سکتی ہیں، بین الاقوامی قوانین نہیں”۔ اپنے مفادات کو بین الاقوامی نظام پر مسلط کرنا اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنا، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافکا کے ناول "ٹرائل” میں مرکزی کردار پر بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں — بے منطق مگر تباہ کن، انصاف سے عاری اور انسانی اخلاقیات کو مسخ کرنے والا۔اسی طرح غزہ میں اسرائیل کے اقدامات نے اس مضحکہ خیزی کو اخلاقی انہدام کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی مذمت اور جنگ بندی کی قراردادوں کے باوجود غزہ پر مسلسل عسکری کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری، خواتین اور بچے جان سے گئے،لیکن ہمیشہ "سیلف ڈیفنس” کے بہانے ان اقدامات کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ تشدد کو انصاف کا نام دینا اور انسانی اقدار کی حدود کو پامال کرنا،دونوں نے منافقت اور دوہرے معیار کو بین الاقوامی سماج کا معمول بنا دیا ہے۔ طاقت اپنی بنائی ہوئی منطق میں خود سر ہو گئی ہے، جبکہ کمزوروں کی چیخیں ضمیر کی سماعت سے اوجھل ہو گئی ہیں ۔ جب طاقتور قوانین کو روند سکتے ہیں اور انسانی جانیں محض کھیل کا مہرہ بن جاتی ہیں، تو حقیقت کی مضحکہ خیزی ادب کے تمام تصورات سے کہیں آگے نکل جاتی ہے ۔ طاقت اب جھوٹ کے پردے میں چھپنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی، بلکہ لوگوں کے خوف اور تشدد پر خاموش رضامندی کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے متعدد فیصلے بے اثر ہو کر رہ گئے ہیں، مذمتیں بے نتیجہ رہی ہیں، اور طاقت کے سامنے یہ ادارہ ایک خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ اخلاقی زوال اب انفرادی انتخاب نہیں رہا، بلکہ طاقتوروں کی بقا کی منطق میں ڈھل چکا ہے ، جو کسی بھی ادبی افسانے سے زیادہ دم گھونٹنے والا ہے۔اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جب "بادشاہ کے نئے لبادے” کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے، تب بھی تماشا جاری ہے:بالادستی کے متنازع بیانات کے باوجود ان کے پیروکار موجود ہیں، تشدد کے باوجود سرپرستی جاری ہے، اور سیاسی مفادات کو انسانی ضمیر پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ دوہرے معیارات کے ذریعے وہ عالمی انصاف کو تباہ کر رہے ہیں، اور تہذیب کی بنیادوں کو لالچ اور مفاد کے کھیل میں پستی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ مضحکہ خیزی کا احساس مایوسی یا بے معنویت کی طرف نہیں لے جانا چاہیے بلکہ ہوشیاری اور بیداری کو جنم دینا چاہیے۔ دنیا کی راہِ نجات شاید کسی ایک عظیم حل میں نہیں بلکہ ان بے شمار چھوٹے فیصلوں میں پنہاں ہے جہاں عام لوگ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے اور طاقت کے ساتھ شریکِ جرم بننے سے انکار کرتے ہیں۔اس کا تعلق کثیر الجہتی نظام کو ازسرنو تعمیر کرنے، اقوام متحدہ کو حقیقی توازن کا کردار واپس دلانے ، اور کمزور ممالک کو مساوی آواز دینے سے بھی ہے۔مضحکہ خیزی کی اصل جڑ نظم و ضبط کا بگڑ جانا ہے۔ جب تک انصاف کو محور بنا کر انسانی قدروں پر مبنی منطق کے تحت عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل نہیں کی جاتی، دنیا اس الجھن سے نہیں نکل سکتی۔ یہی راستہ ہے جس کے ذریعے انسانیت ایک بار پھر تہذیب، امن اور مشترکہ مستقبل پر اپنا یقین بحال کر سکتی ہے۔