بعض مغربی ممالک انسانی حقوق کے مسئلے کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دیں، چینی نمائندہ

0

اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سون لئی نے جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے عام مباحثے میں بعض مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ چین کے خلاف جھوٹ گھڑنے اور پھیلانے کا سلسلہ بند کریں اور انسانی حقوق کے مسئلے کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دیں۔سون لئی نے کہا کہ برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، آئرلینڈ، چیک جمہوریہ اور لتھوانیا کے نمائندوں نے اپنی تقاریر میں چین کی انسانی حقوق کی صورتحال پر بلاجواز اور بد نیتی پر مبنی الزامات عائد کیے اور چین کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ چین اس پر شدید اعتراض اور سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ممالک میں خود انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین مسائل موجود ہیں، اس لیے ان کے پاس انسانی حقوق کے معاملے پر بات کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی انہیں چین پر تنقید کرنے کا کوئی حق حاصل ہے۔سون لئی نے کہا کہ چین نے اپنی ترقی کے ذریعے نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے فروغ میں اعتماد اور قوت فراہم کی ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عالمی انسانی حقوق کے نظام کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں آگے بڑھانے کے لیے بھی کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، چیک جمہوریہ اور لتھوانیا سمیت بعض ممالک بار بار اخلاقیات کی بات کرتے ہیں، لیکن فلسطین، ایران، کیوبا اور دیگر ممالک کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے مکمل طور پر بے نیاز ہیں۔ ان کے بقول، یہ ممالک انسانی حقوق کے بہانے مسلسل دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت اور یکطرفہ پابندیاں عائد کرتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے انہوں نے انتہائی غیر معزز کردار ادا کیا ہے۔سون لئی نے واضح کیا کہ چین عصر حاضر کے رجحانات اور اپنی قومی صورتحال کے مطابق انسانی حقوق کی ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے معاملے پر تعمیری مکالمے کے لیے تیار ہے، انسانی حقوق کے مسئلے کو سیاسی بنانے کے رجحان کی مخالفت اور ہر فرد کے انسانی حقوق کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.