پاکستان ٹوبیکو بینسن اینڈ ہیجز کا پریمیم برانڈ نچلی کیٹیگری میں متعارف کرا کر 15 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث نکلی

0

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی دستاویز کے مطابق پاکستان ٹوبیکو کے بینسن اینڈ ہیجز اس کے خلاف 2 سال پہلے کارروائی کا آغاز کیا گیا،
نوٹسز بھیجے گئے لیکن کارروائی تاحال نامکمل ہے۔ دوسال سال میں ایف بی آر نے محض رسمی کارروائی کی ہے۔ گزشتہ دو سال سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو مسلسل اس ایشو کو نظر انداز کر رہا ہےاور لگ بھگ 75 ارب روپے ٹیکس اور جرمانہ وصول کرنے میں ناکام ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سست روی کی وجہ سے ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان ٹوبیکو قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان پہنچانے کی زمہ دار ہے۔یہ حقیقت ہے کہ سال 2024 میں فیڈرل بورڈ اف ریونیو نے پاکستان ٹوبیکو کے بینسن اینڈ ہیجز پریمیم برانڈ کو نچلی کیٹگری میں لا کر 480 روپے کی ڈبی کو 280 روپے میں بیچنے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ ایف بی آر کے مطابق ایک ہی نام کے برانڈ کے سگریٹ کو نچلی کیٹیگری میں لانے سے محض جولائی 2024 سے اکتوبر 2024 تک 4 ماہ میں ٹیکس کی مد میں ایک ارب 8 کروڑ 91 لاکھ اور 85 ہزار روپے ٹیکس کی مد میں بچائے گئے۔ ایف بی آر کے مطابق پاکستان ٹوبیکو نے جولائی 2024 میں مسلسل دو سال بینسن اینڈ ہیجز کے پریمیم برانڈ کو نچلی کیٹگری میں فروخت کیا ۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا موقف ہے کہ ایک کمپنی اپنے کسی بھی جاری برانڈ کو کم قیمت کیٹگری میں فروخت ہی نہیں کرسکتی یہ غیر قانونی ہے۔ پریمیئم برانڈ کو نچلی کیٹگری میں شامل کر کے فروخت نہیں کیا جاسکتا اس طرح سے قیمت کم ہونے سے فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس کی آمدن متاثر ہوتی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستان ٹوبیکو کمپنی سے ایف بی آر ایکٹ سیکشن 7 کے تحت شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے سیکشن 14 اور سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 11 ای کے ذریعے وجوہات طلب کی ہیں کہ مذکورہ کمپنی اپنے پریمیم برانڈ کو نچلی کیٹگری میں کیسے فروخت کر سکتا ہے۔ اس خلاف ورزی پر فیڈرل بورڈ اف ریونیو کا ایکٹ 2007 کے تحت ایف بی ار قانونی کاروائی کا حق رکھتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس سلسلے میں قانونی کارروائی کیوں نہ کرے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمجھتا ہے کہ ایف ای ڈی ایکٹ کے سیکشن 14 اور سیلز ٹیکس ایکٹ کی سیکشن 11 ای کی خلاف ورزی سے ٹیکس جمع کرنے کا فرسٹ شڈیول متاثر ہوتا ہے اور کم قیمت کیٹگری میں آنے کی وجہ سے فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس کی چوری ہوتی ہے۔ مزید برآں ایف بی آر کے نوٹسز کے دوران یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف چار ماہ کے اندر بینس اینڈ ہیجز برانڈ کی پریمئیم کیٹگری سے نچلی کیٹگری میں آنے سے 1 ارب 9 کروڑ سے زائد کا ٹیکس چوری ہوا۔ بینس اینڈ ہیجز برانڈ کی پریمئیم کیٹگری سے نچلی کیٹگری میں فروخت کرنے یہ سلسلہ گزشتہ دو سال سے جاری ہے ۔ گزشتہ دو سال کے دوران فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس کی مد میں ٹیکس چوری کی رقم لگ بھگ 15 ارب روپے بنتی ہے۔ کیونکہ یہ ٹیکس چوری ہے اور اس کی جرمانہ کم از کم 5 گنا یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو اب جولائی 2026 میں مزکورہ غیر قانونی فروخت سے پاکستان ٹوبیکو سے 75 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا مجاز ہے۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی ملک میں 300 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان ٹوبیکو بینسن اینڈ ہیجز کا پریمیم برانڈ نچلی کیٹیگری میں متعارف کرا کر 15 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.