قتل و غارت کی زمین پر ، "ڈریگن ریستوران” کا آگ جلا کر کھانا پکانے کا انتخاب
بیجنگ :کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جب انسان غم کے انتہائی کنارے تک پہنچ جاتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اپنے جذبات چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے زبردستی مسکراتا ہے، گفتگو کے دوران موضوع بدلتا ہے، مصروفیت سے خود کو بے حس ثابت کرتا ہے۔ لیکن جب بالآخر وہ چپ چاپ اکیلا کھانا کھانے بیٹھتا ہے، اور ایک لقمہ اپنے منہ میں ڈالتا ہے ،تو اسی لمحےاس کے آنسو بے اختیار بہنے لگتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جذبات و احساسات کے اعصابی جال کا بڑا حصہ آنتوں میں پھیلا ہوا ہے۔ قدیم چینی شاعر” نیورو سائنس” سےزیادہ واقف نہیں تھے، مگر انہوں نے "غم سے آنتیں ٹوٹنا” جیسے الفاظ سے غم اور ہاضمے کے نظام کے گہرے رشتے کو بڑی درستگی سے بیان کیا ۔ایک ہزار سال پہلے کے شاعر بائی جویی نے لکھا: "میرے دل میں ایک بات ہے، جو گہری آنتوں میں بند ہے”۔اس نے بے بیان درد کو آنتوں کی گہرائی میں رکھ دیا۔ جبکہ خوشی دماغ سے تعلق رکھتی معلوم ہوتی ہے،عقل، ضبط، اور سماجی مسکراہٹ سب کا پیغام وہیں سے آتا ہے ۔چنانچہ ایک دلچسپ تضاد جنم لیتا ہے: جب ہم دماغ سے جذبات پر قابو پاتے ہیں اور سماجی نقاب اوڑھتے ہیں، تو غم عارضی طور پر محفوظ ہو جاتا ہے؛ لیکن جب کھانا منہ میں جاتا ہے اور آنتیں بیدار ہوتی ہیں، تو وہ غم جو دماغ نے زبردستی دبا رکھا تھا، اعصابی راہوں سے ابھر کر خاموش آنسوؤں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ شاید یہی وہ پوشیدہ نقطۂ آغاز ہے جس نے چینی فلم ڈریگن ریستوران میں خوش آمدید، جس کا انگریزی نام Once Upon a Time in the Middle East ہے ،کو دلوں کو چھو لینے والی فلم بنادیا۔یہ فلم ایک چینی ہدایت کار کی ہے اور اس کا پس منظر مشرق وسطیٰ کی ایک جنگ ہے، جس نے ملک اور بیرون ملک خاصی مقبولیت حاصل کی ہے ۔ کہانی کا مرکزی خاکہ انتہائی سادہ مگر پرکشش ہے: ایک چینی شخص مشرق وسطیٰ میں ریستوران کھولتا ہے اور جنگ کی آگ میں گھرے لوگوں کی مدد کھانے سے کرتا ہے۔ یہ موضوع خودبخود فلم” شنڈلر زلسٹ ” اور” جان رابی ” کی یاد دلاتا ہے ۔ یعنی عام انسان کا انتہائی مشکل حالات میں جنگ زدہ لوگوں کی مدد کرنا، اور یہ سوال کہ "ایک آدمی کیا کر سکتا ہے”۔ مگر "ڈریگن ریستوران میں خوش آمدید "نے ایک منفرد زاویہ چنا ہے: کھانا۔ یہاں کھانا محض زندہ رہنے کے لیے ضروری چیز نہیں، بلکہ نسل، مذہب اور شناخت سے بالاتر ایک زبان اور پل بن جاتا ہے۔ جب گلیوں میں بم دھماکے ہو رہے ہوں اور قومیت زندگی اور موت کے درمیان لکیر بن جائے، ایسے میں ایک پیالہ گرم سوپ یا ایک پلیٹ پکا ہوا کھانا دشمنی میں مبتلا لوگوں کو کچھ دیر کے لیے ہتھیار نیچے رکھنے اور دوبارہ صرف "انسان” بننے کا موقع دے سکتا ہے۔بظاہر یہ تصور قدرے معصومانہ محسوس ہوتا ہے، لیکن غور کریں تو یہ جنگ کی حقیقت کو براہِ راست چھوتا ہے۔ جنگ انسان کو مختلف گروہوں اور”دوست و دشمن” میں تقسیم کرکے اس کی انسانیت چھیننے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ کھانا اس کے بالکل برعکس کرتا ہے۔ وہ ہر انسان کو دوبارہ اس بنیادی حقیقت تک لے آتا ہے کہ اسے بھوک لگتی ہے، اسے درد ہوتا ہے اور اسے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ریستوران ۔ایک انتہائی عام شہری جگہ ،جنگ کی اس تقسیم کے خلاف قدرتی طور پر مزاحمت کرتاہے ۔ ڈریگن ریستوران میں داخل ہونے والا شخص خواہ کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھتا ہو، کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو یا کوئی بھی زبان بولتا ہو، سب سے پہلے وہ ایک بھوکا انسان ہوتا ہے۔ کھانا سیاسی شناخت کے فرق کو مٹا کر انسان کو ایک زیادہ قدیم اور مساوی سطح پر واپس لے آتا ہے: ہم سب کھانا کھا کر زندہ رہتے ہیں، اور ہم سب ایک لقمہ گرم کھانے پر آنسو بہا سکتے ہیں۔فلم میں چینی شخص کی "تیسری فریق” کی حیثیت بھی غور طلب ہے۔ وہ نہ فاتح ہے، نہ مفتوح، نہ کوئی امدادی تنظیم، نہ صحافی۔ وہ صرف ایک ریستوران کا باورچی ہے۔ یہ” بیرونی شخص” کا نقطۂ نظر اسے جنگ کے اندر موجود ہونے کے باوجود اس جنگ کا مکمل حصہ نہیں بناتا۔ اسے کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرنا پڑتا۔ اس کا مؤقف صرف اتنا ہے: جو شخص یہاں کھانا کھانے آئے، اسے پیٹ بھر کر کھانا ملنا چاہیے۔یہ تقریباً بے ڈھنگی سی مہربانی ہی جنگ کے لیے سب سے مکمل انکار ہے ۔جنگ ہمیں کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کو کہتی ہے، اور یہ باورچی ایک ہانڈی شوربے سے جواب دیتا ہے کہ” میرافریق زندہ انسان ہیں”۔ غیر ملکی سرزمین کی جنگ میں، چینی ریستوران ایک چھوٹا سا یوٹوپیا بن جاتا ہے۔یہاں جنگ کی بربریت عارضی طور پر رک جاتی ہے، اور انسانیت کی روشنی سانس لیتی ہے۔ وہ لوگ جو گولہ باری میں ریستوران میں داخل ہوتے ہیں، شاید وہی "بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے رونے والے” ہیں: وہ کھانے کی وجہ سے نہیں رو رہے ہوتے، بلکہ اس لیے روتے ہیں کہ انہیں آخرکار ایک ایسی جگہ مل گئی ہے جہاں وہ کچھ دیر کے لیے اپنا دفاع چھوڑ سکتے ہیں، اپنے خوف کو بھول سکتے ہیں اور خود کو کمزور ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں۔یہی بات واضح کرتی ہے کہ فلم میں کھانا جنگ کے دوران انسانیت کے باقی رہنے کی علامت کیوں بن جاتا ہے۔ جب تمام نظام درہم برہم ہو جائیں، جب قانون، اخلاق اور ریاستی مشینری ناکام ہو جائیں، تب ایک عام انسان کی جانب سے آگے بڑھایا گیا ایک پیالہ کھانا کسی بھی اعلان سے زیادہ طاقتور انداز میں یہ ثابت کرتا ہے کہ:ہم نے ابھی اپنی انسانیت مکمل طور پر نہیں کھوئی۔ڈریگن ریستوران میں خوش آمدید ایک بظاہر چھوٹے سے زاویے سے جنگ، سیاست، اور انسانیت پر سوچ کو ہلا دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اندھیرے کی سب سے گہری تہہ میں، نجات ہالی ووڈ کے اس ہیرو سے نہیں آئے گی جو انڈرویئر باہر پہن کر، کلوک اوڑھ کر اڑتا ہے بلکہ نجات شاید ایک عام آدمی سے آئے جو بارود کے دھویں سے بھری گلی میں ہانڈی گرم رکھنے، چاول پکانے، اور یہ کہنے پر مائل ہو: "اندر آؤ، آرام سے کھانا کھاؤ۔” اس لمحے، پیٹ میں کھانا ہوتا ہے، آنکھوں میں آنسو، اور دل میں روشنی۔ڈریگن ریستوران میں خوش آمدید!