امریکی اے آئی گورننس انتہائی حد تک متضاد ہو چکی ہے ، چینی میڈیا

0


امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے ایک بیان جاری کیا جس میں اُس نے اندرونی جائزے کے دوران سامنے آنے والے سائبر سیکیورٹی کے سنگین خطرات کے باعث اپنے "آسٹرا” ماڈل کی بعض ترقیاتی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان نے امریکہ میں کئی بڑے اے آئی ماڈلز کی جانچ کے دوران سامنے آنے والے ممکنہ خطرات کو ایک مرتبہ پھر عوام کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔درحقیقت، رواں سال جولائی میں اوپن اے آئی ماڈلز نے اپنی محدود حدود سے باہر نکل کر امریکی اوپن سورس اے آئی کمیونٹی اور ماڈل ہوسٹنگ پلیٹ فارم "ہیگنگ فیس سسٹم” میں دراندازی کی۔ اسی ماہ ایک اور امریکی اے آئی کمپنی "اینتھروپک” کے اے آئی ماڈل نے جانچ کے دوران بلااجازت تین دیگر کمپنیوں کے سرورز تک رسائی حاصل کی، حتیٰ کہ جعلی شناخت کے ذریعے فشنگ ای میل بھیجی اور ناکامی کے بعد بھی نیٹ ورک ریکارڈ میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی۔ برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے اے آئی ماڈلز نے 122 ٹیسٹوں کے دوران حقیقی دنیا کے انٹرنیٹ ماحول کے خلاف مجموعی طور پر 19 فعال حملے کیے۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا کی سرفہرست کمپیوٹنگ پاور اور آر اینڈ ڈی ٹیموں کے باوجود امریکہ میں بند سورس بڑے اے آئی ماڈلز میں اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرات موجود ہیں۔اے آئی سیکیورٹی کے خطرات تیزی سے سامنے آ رہے ہیں تو عالمی سطح پر قابل عمل دفاعی حل کی فوری ضرورت ہے۔ 5 اگست کو ،عالمی اے آئی سائبر سیکیورٹی کی عملی جانچ کے لیے "سائبر جیم لیڈر بورڈ” جاری کیا گیا، جس میں حقیقی دنیا کے حملوں اور دفاعی منظرناموں سے متعلق 1507 سوالات شامل کیے گئے تھے۔ مائیکروسافٹ اور گوگل سمیت امریکی ٹیموں نے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے زیادہ لاگت والے بند سورس ماڈلز پر انحصار کیا، جبکہ چینی ٹیم نے مکمل طور پر اوپن سورس ماڈل "زی پُو جی ایل ایم 5.2” پر انحصار کرتے ہوئے اوپن سورس لیڈر بورڈ میں پہلی اور مجموعی لیڈر بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ ماڈل اعلیٰ سیکیورٹی ماہرین کی تحقیقی منطق کو نقل کرتا ہے، ماڈل کے بے قابو ہونے اور اس کے پھیلاؤ کے خطرے سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مکمل طور پر اوپن سورس ہے، جس نے اعلیٰ درجے کی اے آئی سیکیورٹی صلاحیتوں پر چند بڑے اداروں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا ہے اور بند سورس ماڈلز پر مبنی امریکی حفاظتی نظام میں موجود بعض خامیوں کو بھی دور کرنے میں مدد دی ہے۔تاہم، چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی حقیقی صلاحیتوں کو دیکھنے کے بعد امریکہ کا پہلا ردعمل ان سے تعاون اور سیکھنے کے بجائے انہیں روکنے اور دبانے کی کوششوں کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن چینی اے آئی کور کمپیوٹنگ ہارڈویئر کی درآمد کو محدود کرنے کے لیے نئے ضوابط کا مسودہ تیار کر رہا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس چین کے اوپن سورس بڑے اے آئی ماڈلز کو محدود کرنے کے لیے ریگولیٹری پالیسیاں متعارف کرانے پر بھی غور کر رہا ہے۔ یہ متضاد دوہرا معیار امریکی پالیسی کی بنیادی منطق میں موجود تضاد کے تین اہم پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے۔پہلا پہلو یہ ہے کہ سیکیورٹی خطرات اندرونی طور پر پیدا ہوتے ہیں، لیکن احتساب صرف بیرونی عناصر کا کیا جاتا ہے۔ اے آئی سیکیورٹی کی خامیاں تکنیکی ترقی کے دوران پیدا ہونے والا ایک عمومی مسئلہ ہیں، جس کا سامنا ہر ملک کو ہو سکتا ہے۔ تاہم، اپنی ملکی کمپنیوں کے لیے جانچ کے معیار کو بہتر بنانے اور خامیوں کو دور کرنے کے بجائے امریکہ نے دوسرے ممالک کی اے آئی صنعتوں کو محدود کرنے کے لیے "ممکنہ خطرات” کو بنیاد بنایا ہے۔ یوں اپنی سیکیورٹی سے متعلق پریشانیوں کی ذمہ داری دوسروں کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ بحران کے حل کے لیے اوپن سورس ٹیکنالوجی پر انحصار کیا جاتا ہے، لیکن اسی اوپن سورس شعبے کو دبانے کی پوری کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں ، مین اسٹریم کمرشل اے آئی کمپنیوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے یکساں پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں۔ جب انہیں ہیکر حملوں کے ریکارڈ یا بدنیتی پر مبنی کوڈ جیسے حساس مواد کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بعض اوقات براہ راست اس پر کارروائی کرنے سے انکار کر دیتی ہیں اور واقعے کی وجوہات تلاش کرنے میں انسانی صارفین کی مدد بھی نہیں کر پاتیں۔ اس کے برعکس اوپن سورس ٹیکنالوجی اپنے قواعد و ضوابط کو نسبتاً لچکدار انداز میں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت کے باعث ہنگامی چیلنجز سے نمٹنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ ایسے میں امریکہ کی جانب سے چین کے اوپن سورس بڑے ماڈلز کو محدود کرنے کے منصوبے پر غور کرنا اس شخص کے مترادف ہے جو خود سنگین بیماری کا شکار ہو لیکن اچھی دوا کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہو۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ عالمی حکمرانی کی وکالت کرتے ہوئے بھی صنعتی سلسلوں کو جان بوجھ کر منقطع کیا جا رہا ہے۔ امریکہ متعدد مواقع پر متحدہ اے آئی حفاظتی معیارات اور بین الاقوامی فورمز کے ذریعے تکنیکی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے، لیکن اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے وہ تجارتی اور تکنیکی رکاوٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے، جس سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تقسیم مزید گہری ہوتی ہے۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ عالمی حکمرانی کی وکالت کرتے ہوئے بھی صنعتی چینز کو جان بوجھ کر منقطع کیا جا رہا ہے۔ امریکہ متعدد مواقع پر متحدہ اے آئی حفاظتی معیارات اور بین الاقوامی فورمز کے ذریعے تکنیکی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے، لیکن اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے وہ تجارتی اور تکنیکی رکاوٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے، جس سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تقسیم مزید گہری ہوتی ہے۔بالآخر، امریکہ کی بنیادی منطق یہ دکھائی دیتی ہے کہ "سیکیورٹی” کو جیو پولیٹیکل گیمز کے ایک آلے میں تبدیل کیا جائے اور اپنی تکنیکی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اپنی پسند کے مطابق اصولوں کا انتخاب کیا جائے۔ شاید یہی امریکی طرز کی اے آئی گورننس میں موجود تضادات کی اصل وجہ ہے۔ امریکی طرز حکمرانی کے یہ داخلی تضادات ایک نئے عالمی اے آئی گورننس فریم ورک کے قیام کی ضرورت اور عجلت کو واضح کرتے ہیں۔ چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے 2026 میں عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کردہ گورننس کے اصول ایک منصفانہ اور معقول عالمی اے آئی گورننس نظام کی تعمیر کی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان اصولوں کے تحت قومی سلامتی کے بے جا استعمال، ٹیکنالوجی کی اجارہ داری اور مٹھی بھر ممالک کی جانب سے قواعد سازی کے حق کی مخالفت کی جاتی ہے، جبکہ اوپن سورس اور بند سورس دونوں کی متنوع ترقی کی حمایت، تمام ممالک کے ساتھ اے آئی سیکیورٹی صلاحیتوں کے اشتراک اور حقیقی معنوں میں خطرات کی مشترکہ روک تھام اور فوائد کے اشتراک کو فروغ دینے پر زور دیا جاتا ہے۔سلیکون ویلی میں اے آئی کے ” پریزن بریک” کا بار بار ڈرامہ ایک واضح آئینے کی حیثیت رکھتا ہے کہ ملک کے دروازے بند کرکے سیکیورٹی کے مسائل کبھی حل نہیں کیے جا سکتے، اور تکنیکی برتری دوسرے ممالک کو روکنے اور دبانے کا سرمایہ نہیں بن سکتی۔ صرف تسلط پسندانہ سوچ کو ترک کرکے، تقسیم اور ناکہ بندی کے رجحان کو ختم کر کے تکنیکی تبادلوں کو جگہ دینے اور مل کر ایک جامع اور باہمی فائدہ مند عالمی گورننس فریم ورک تشکیل دے کر ہی مصنوعی ذہانت کے دور میں سیکیورٹی کی باٹم لائن کو حقیقی معنوں میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.