عروج و زوال کے نظریے” سے نکل کر عالمی رائے عامہ کے بدلنے کے گہرے اشاروں کو سمجھیں
بیجنگ : امریکی تحقیقی ادارے "پیو ریسرچ سینٹر” کے حال ہی میں جاری کردہ عالمی سروے نے بین الاقوامی میڈیا اور حلقوں میں خاصی بحث چھیڑ دی ہے۔ 36 ممالک اور خطوں پر محیط اس سروے میں 42,000 سے زائد افراد شامل تھے۔اس سروے کے نتائج کے مطابق 27 ممالک اور خطوں میں چین کے حق میں امریکہ کے مقابلے میں زیادہ موافقت ہے، اور متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ ادارے کی گزشتہ دو دہائیوں کی نگرانی میں پہلی تاریخی تبدیلی ہے۔ اس سے قبل "گیلپ” کے 130 سے زائد ممالک کا احاطہ کرنے والے سروے سے بھی ظاہر ہوا کہ عالمی قیادت کے لیے چین کی حمایت پہلی بار امریکہ کی 31 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 36 فیصد ہو گئی ہے ۔ تاہم، اس تبدیلی کی تشریح کرتے ہوئے، میرا ماننا ہے کہ "سیاسی نظام کی ادارہ جاتی برتری یا کمتری” اور "امریکہ کے زوال” کی یک طرفہ غلط فہمیوں سے آزاد ہونا ضروری ہے، اور اس عالمی عوامی رائے کی تبدیلی کو مہذب اور ترقیاتی نقطہ نظر سے عقلی طور پر دیکھنا چاہیے۔سب سے پہلے، بنیادی تصور کو واضح کرنا ضروری ہے: عالمی سروے کے نتائج، امریکہ اور چین کی چند دہائیوں کی بین الاقوامی کارکردگی اور حکمرانی کے نتائج کا حقیقی جائزہ ہیں، نہ کہ دونوں سیاسی نظاموں کی برتری یا کمتری کا فیصلہ۔ عوام کے تاثرات کا ماخذ ان کا حقیقی بین الاقوامی تجربہ ہے۔ چین مداخلت نہ کرنے کے اصول پر قائم ہے، عالمی تعاون کو فروغ دیتا ہے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، باہمی فائدے کے لیے تجارت اور ٹیکنالوجی کی شراکت کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں مدد کرتا ہے، اور عالمی امن و استحکام کے لیے مثبت توانائی فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے اسے بہت سے ممالک ایک قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف، امریکہ طویل عرصے سے یکطرفہ پالیسیوں اور بالادستی پر مبنی سفارت کاری پر عمل پیرا ہے، دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مسلسل مداخلت کرتا ہے، غیر معقول محصولات عائد کرتا ہے، اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرتا ہے، جس سے اس کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سروے کے اعداد و شمار میں اضافہ یا کمی، دنیا بھر کے ممالک کی دونوں ممالک کے سفارتی عمل، ذمہ داری، اور ترقیاتی اقدار کے لیے حقیقی ووٹ ہے نہ کہ مشرقی یا مغربی سیاسی نظاموں کا فیصلہ ۔تاہم، ایک اور نقطہ نظر سے، اس عوامی رائے کی تبدیلی میں سب سے گہرا اشارہ مشرقی اور مغربی تہذیبوں اور سیاسی نظاموں کے بارے میں مغربی فکری تصورات کی تعمیر نو ہے۔ "تاریخ کے اختتام” کے نظریے کے خالق اور مغربی نظام کی یکتائی کے حامی امریکی اسکالر فرانسس فوکویاما نے حالیہ عرصے میں اپنا نقطہ نظر مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب وہ چینی نظام پر تنقید اور اسے مسترد کرنے کے بجائے، امریکہ کے ترقیاتی بحران کو تسلیم کرتے ہیں اور چینی نظام کے موزوں ہونے ، اس کے ارتقا ءاور پروان چڑھنے کو دوبارہ جانچ رہے ہیں۔ متعدد میڈیا انٹرویوز میں انہوں نے کہا کہ اگر چین اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھتا ہے، تو میری سابق پیشن گوئی غلط ثابت ہو سکتی ہے کہ سوشلسٹ نظام کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ چین کا ماڈل "مغربی جمہوریت کے لیے ایک حقیقی متبادل بن سکتا ہے”۔ یہ ایک صدی سے زائد عرصے میں مغربی دانشوروں کے خیالات میں ایک اہم تبدیلی ہے، جس نے مغربی مرکزیت کے نظام کی کہانی کے دائرے کو توڑ دیا ہے۔ ایک طویل عرصے سے، مغربی میڈیا "مغربی نظام کی برتری” کے جامد تصور میں الجھا ہوا تھا، لیکن چین کی مستقل ترقی اور عالمی سطح پر عوام کی حقیقت پسندی نے مغربی دانشوروں کو اپنے تعصبات سے باہر نکلنے، اپنی نظریاتی حدود پر غور کرنے، اور انسانی سیاسی نظام کی کثیر الجہتی اقدار کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے، جس سے عالمی حکمرانی کے تصورات کی تجدید میں نئی فکری توانائی شامل ہوئی ہے۔ یہ پیو کے اعداد و شمار سے بھی زیادہ گہرا پیغام ہے کیوں کہ سیاسی نظام کی حتمی اقدار، یک قطبی بیانیے سے نکل کر کثیر الجہتی تجربے کی طرف لوٹ رہی ہیں۔اس نقطہ نظر سے "امریکہ کے زوال کے نظریے” کو دیکھا جائے تو، مجھے لگتا ہے کہ اس پر بھی جذباتی ردعمل سے گریز کرنا چاہیے۔ چین اور امریکہ کی عظیم تہذیبوں کی اپنی اپنی خوبیاں ہیں ۔پانچ ہزار سالہ چینی تہذیب کا "ہمسائے کے ساتھ نیکی اور دنیا میں اتحاد” کا تسلسل، اور امریکہ کی ڈھائی سو سالہ جدید صنعتی تہذیب کا پیداواری جذبہ، سائنسی تخیل اور نظام کی اصلاح کی روایت، مشرقی اور مغربی تہذیبوں کی ترقی کے مختلف راستوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایک وقت میں رائے عامہ کا اتار چڑھاؤ، تاریخی دھارے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکی عوام میں مکمل دانشمندی اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ قطبی تقسیم، امیری اور غریبی کے فرق اور "ویٹو سیاست” سے سبق سیکھیں، اور مشرقی "ہم آہنگی”، "حقیقت پسندی” اور "طویل المدتی نظریے” سمیت دیگر عناصر کو اپنائیں، تاکہ امریکہ دوبارہ عوامی اعتماد حاصل کرنے اور دنیا میں مثبت کردار اد کرنے کے راستے پر گامزن ہو سکے۔ یہی چین کی جانب سے پیش کردہ تہذیبوں کے باہمی سیکھ کے اقدام کی حقیقی اہمیت ہے۔پیو کے سروے کا امریکہ کے لیے اصل پیغام یہ نہیں ہے کہ "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا خواب” ٹوٹ گیا ہے، بلکہ یہ اپنی نئی شناخت کا تعین ہے، اور وہ شناخت یہ ہے کہ چوٹی پر موجود ملک” کے وہم سے نکلنا ہوگا اور کثیر قطبی دنیا میں ایک برابر کے شریک کی حیثیت کو قبول کرنا ہو گا کیوں کہ دانشمندی ہی "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے” کا درست آغاز ہے۔رہا سوال کہ چین کو کیا کرنا چاہئیے تو چین کو کبھی بھی سروے کے ذریعے یہ نہیں ثابت کرنا کہ میں تمہاری جگہ لے سکتا ہوں”۔ چینی طرز کی جدیدیت ایک اور امکان پیش کرتی ہے: اقدار کو زبردستی نہ تھونپنا، گروہ بندی کی مخالفت کرنا، اور ترقی کے ثمرات کو دوسرے ممالک کے لیے قابل استعمال سڑکوں، پلوں اور بجلی گرڈ میں تبدیل کرنا۔ "تھوسیڈائڈز ٹریپ جیسے نظریے کے بر عکس ، چین اور امریکہ کے سربراہان کی مشترکہ سمجھ یہی ہے کہ دونوں عظیم تہذیبوں کو مل کر رہنا ہوگا۔ چینی اور امریکی تہذیبیں اپنی اپنی خوبیوں کے ساتھ، مخلوط طور پر چل سکتی ہیں اور دونوں روایات کے آئینے میں اپنے نامکمل اسباق کو دیکھ سکتی ہیں۔رائے عامہ کے سروے کی میعاد ختم ہو جائے گی، فوکویاما جیسے لوگ اپنے نظریات میں بار بار ترمیم کریں گے؛ لیکن وہی رہے گا جو دنیا بھر کے عوام ممالک کا جائزہ اس بنیاد پر لیتے ہیں کہ کون قابل اعتماد ہے ،کون مشترکہ ترقی کا حامی ہے اور کون امن و استحکام کو فروغ دیتا ہے ۔ چین کی روایت ہے کہ وہ دھوکہ دینے والی شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ عملی تعاون کی اس موسیقیت کو پسند کرتاہے جو سب کے کانوں کو بھلی لگے ۔ اگر امریکہ”چوٹی پر موجود ہونے والے ملک ” کی سوچ سے چھٹکارا پا لے تو اس کے پاس بھی” سنگل پلے کو دوبارہ ٹیم پرفارمنس میں بدل دینے کا موقع ہوگا۔مختلف آوازیں مل کر ہم آہنگی پیدا کر سکتی ہیں اور اپنے منفرد سروں کو نبھا کر ایک خوبصورت ہارمونی تشکیل دے سکتی ہیں ۔ "سو پھول کھلنا” صرف ایک بیانیہ نہیں ہے، بلکہ اگلی صدی کی ایک مسلمہ سیاسی فہم ہے: تہذیبیں اپنے تنوع کی وجہ سے کامیاب ہوتی ہیں، اور باہمی سیکھ کی وجہ سے لافانی ہوتی ہیں۔