چینی وفد نے جاپان کی تنقید اور الزامات کو مسترد دیا

0

بیجنگ :فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ "آسیان علاقائی فورم” اور "ایسٹ ایشیا سمٹ” کے وزرائے خارجہ اجلاسوں کے دوران، جاپان نے آبنائےتائیوان ،بحیرہ جنوبی چین ، اور "چینی خطرہ” جیسے موضوعات کو ہوا دی، جس پر چینی وفد نے بھرپور اور دوٹوک انداز میں جواب دیا۔تائیوان کے معاملے پر چینی وفد نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کا داخلی معاملہ ہے۔ چین کسی بھی نام یا کسی بھی طریقے سے تائیوان کے علیحدگی پسند عناصر کو تائیوان کو چین سے الگ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ عالمی برادری جس قدر واضح انداز میں "تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کرے گی اور ایک چین کے اصول پر قائم موقف جتنا زیادہ پختہ ہوگا ، اتنا ہی آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر چینی وفد نے کہا کہ یہ دنیا کی مصروف ترین، محفوظ ترین اور آزاد ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ ہر سال دنیا بھر کے تقریباً 30 فیصد کنٹینرز، 34 فیصد مائع قدرتی گیس اور 40 فیصد خام تیل کی ترسیل بحیرہ جنوبی چین سے ہوتی ہے، جبکہ لاکھوں شہری پروازیں بھی اس فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔ آج تک کسی بھی بحری جہاز یا طیارے کو یہاں کسی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کے برعکس بعض ممالک نے اپنے جنگی بحری جہاز اور فوجی طیارے دوردراز سے یہاں بھیج کر بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی اور اشتعال پیدا کیا ہے ۔چین متعلقہ براہ راست فریقین کے ساتھ دوطرفہ دوستانہ مشاورت کے ذریعے متنازعہ معاملات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے مزید کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے، اور ساتھ ہی آسیان ممالک کے ساتھ مل کر "بحیرہ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل سے متعلق اعلامیہ” کو جامع اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے، ” بحیرہ جنوبی چین ضابطۂ اخلاق ” کو جلد از جلد حتمی شکل دینے ، اور مشترکہ طور پر بحیرہ جنوبی چین میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ بیرونی قوتیں جتنا کم اختلافات کو ہوا دیں گی اور اشتعال انگیزی کم کریں گی، علاقائی ممالک اتنے ہی زیادہ اعتماد اور صلاحیت کے ساتھ اپنے خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھ سکیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.