پاک۔چین کہانیاں|پاکستانی صحافی کو چین کے قدیم ثقافتی ورثے کے مقامات پر اپنے وطن کی جھلک دکھائی دی

0

تائی یوآن(شِنہوا) چین کے شمالی صوبے شنشی میں واقع صدیوں پرانے جن سی مندر اور پنگ یاؤ کے قدیم شہر کی سیر کے دوران پاکستانی صحافی میاں ابرار حسین کو ایک ایسی چیز ملی جس کی انہیں توقع نہیں تھی، یعنی اپنے وطن کی مانوس جھلک۔حسین نے "خوشحالی کے لئے اتحاد، ابدیت کے لئے ورثہ ” 2026 کے بین الاقوامی ثقافتی ورثہ تحفظ ہفتہ کے دوران متعدد قدیم ثقافتی ورثہ مقامات کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ "جیسے ہی میں یہاں پہنچا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ "یہاں کے فن تعمیر، ثقافتی ورثے اور یہاں کے ماحول میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اگرچہ تاریخی ادوار مختلف ہیں، لیکن پاکستان اور چین کے درمیان ایک بہت مضبوط تعلق موجود ہے۔یہ بین الاقوامی تقریب، جس کا افتتاح صوبہ شنشی کے شہر جن ژونگ کے قدیم شہر یوسی میں ہوا، کے دوران سفارت کاروں، عجائب گھروں کے ماہرین، ثقافتی ورثے کے محققین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تہذیبوں کے درمیان باہم سیکھنے کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گول میز مذاکروں، نمائشوں اور مختلف تاریخی مقامات کے دوروں کے ذریعے شرکاء نے تاریخی مقامات کے تحفظ میں چین کے تجربات کا جائزہ لیا اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو کی۔حسین کے لئے یہ دورہ محض ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بڑھ کر تھا۔ یہ چین اور پاکستان کو باہم جوڑنے والی مشترکہ تاریخ کے سفر میں تبدیل ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ قدیم شاہراہ ریشم کا اثر آج بھی اس پورے خطے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "شاہراہ ریشم پاکستان کے شمالی علاقوں سے گزرتی تھی۔ یہی تاریخ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ آج بھی ہمارے عوام ایک دوسرے سے اتنے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔حسین کے لئے سب سے زیادہ حیران کن بات شنشی کے قدیم فن تعمیر کا غیرمعمولی تحفظ تھا۔انہوں نے کہا کہ "میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک ہی جگہ پر ایک ہزار سال سے زائد عرصے کی تعمیراتی تاریخ دیکھنے کو ملے گی۔ ہر شاہی دور نے یہاں اپنی چھاپ چھوڑی ہے اور ان عمارتوں کو نہایت عمدگی سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ثقافتی ورثے کے اعتبار سے چین کے سب سے مالا مال صوبوں میں شمار ہونے والا شنشی، ریاستی تحفظ کے تحت آنے والے 500 سے زائد اہم ثقافتی آثار کا حامل ہے، جو چین کے تمام صوبائی سطح کے علاقوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کے علاوہ یہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل 3 مقامات بھی موجود ہیں، جن میں پنگ یاؤ کا قدیم شہر، یون گانگ غاریں اور ووتائی پہاڑ شامل ہیں۔حالیہ برسوں میں صوبے نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بھی اپنایا ہے۔ ڈیجیٹل دستاویز سازی، سہ جہتی ماڈلنگ اور عمیق نمائشوں کے ذریعے قدیم آثار اور تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے زیادہ قابل رسائی بھی بنایا گیا ہے۔حسین کے مطابق ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے چین کا طریقہ کار دنیا کے دیگر ممالک کے لئے بھی ایک قابل تقلید مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ "مجھے اس بات نے بے حد متاثر کیا ہے کہ چین نے اپنے ماضی کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنی ثقافت کو بھی مسلسل فروغ دیا ہے۔ یہ پوری دنیا کے لئے ایک نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی ایک شاندار ثقافتی ورثے کا حامل ملک ہے، تاہم اسے اس کے تحفظ کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ "میرا یقین ہے کہ پاکستان چین کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ چین نے ثابت کیا ہے کہ حکومت، ماہرین اور مقامی برادریاں مل کر قدیم عمارتوں، مجسموں اور تاریخی نوادرات کا موثر تحفظ کر سکتی ہیں۔ یہ تجربہ عالمی برادری کے ساتھ ضرور شیئر کیا جانا چاہیے۔شنشی میوزیم کے ڈائریکٹر وانگ شیاؤیی نے کہا کہ ثقافتی ورثہ کو تہذیبوں کے درمیان رکاوٹ نہیں بلکہ ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔وانگ نے کہا کہ "تہذیبوں کے درمیان حقیقی طور پر باہم سیکھنے کا عمل یکطرفہ نمائش نہیں بلکہ دو طرفہ سفر ہے، جس میں تبادلوں کے ذریعے اختلافات کو سمجھا جاتا ہے اور مکالمے کے ذریعے مشترکہ حل تلاش کئے جاتے ہیں۔شرکاء نے کہا کہ اس تقریب نے ثابت کیا ہے کہ ثقافتی ورثہ عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور ممالک کے درمیان باہمی مفاہمت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل بین الاقوامی تعاون انسانیت کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تہذیبوں کے درمیان مضبوط تعلقات کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔حسین کے لئے اس دورے نے ثقافتی ورثے کی اہمیت سے بڑھ کر ایک اور حقیقت کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ "ہماری دوستی آج شروع نہیں ہوئی، بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ شنشی کے دورے نے مجھے بہتر انداز میں سمجھایا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آج بھی اتنی مضبوط کیوں ہے۔”

Leave A Reply

Your email address will not be published.