چین خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کا سخت مخالف ہے ، چینی عہد یدار
چین خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے قانونی نظام قائم کر چکا ہے، لی شیاؤ میئی
اقوام متحدہ :اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باسٹھویں اجلاس میں خواتین کے حقوق کے موضوع پر سیمینار حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوا، جس میں چینی وفد کی نائب سربراہ لی شیاؤ میئی نے تقریر کرتے ہوئے چین کا موقف پیش کیا ۔پیر کے روز لی شیاؤمیئی نے کہا کہ چین خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کا سخت مخالف ہے اورخواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے ایک نسبتاً مکمل قانونی اور نگرانی کا نظام قائم کر چکا ہے ۔ چین نے حال ہی میں "قومی انسانی حقوق ایکشن پلان (2026-2030)” جاری کیا، جس میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا گیا ہے، تاکہ عالمی خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کے شعبے میں مزید استحکام اور مثبت توانائی فراہم کی جا سکے۔ لی شیاؤمیئی نے انسانی حقوق کے حوالے سے جاپان کے ماضی کے سیاہ کرتوتوں کا پردہ فاش کیا اور نشاندہی کی کہ اس سال ٹوکیو ٹرائل کی اسیویں برسی ہے، اور خواتین کو جبری طور پر جنسی غلام بنانا (کمفرٹ ویمن ) جاپانی سامراج کا خواتین کے خلاف سنگین انسانی جرم تھا۔ چین جاپان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ تاریخ پر غور کرے اور دیانتدارانہ رویے کے ساتھ تاریخی طور پر باقی رہ جانے والے مسائل کو مناسب طریقے سے حل کرے۔