سمر ڈیووس فورم کے اختتام پر چین کی اختراع عالمی بحث کا مرکز بن گئی
بیجنگ :تین روز تک جاری رہنے والا 2026 سمر ڈیووس فورم 25 جون کو دالیان میں اختتام پذیر ہو گیا۔ اس سال کے فورم میں "چینی اختراع” عالمی مندوبین کے درمیان ایک اہم اور گرم موضوع رہا ۔ شرکاء کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے لے کر سبز تبدیلی تک، چینی اختراعات کے متعدد نتائج عالمی سطح پر ترقی کے وسیع تر مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ایرکسن کے گلوبل سینئر نائب صدر لینس کارلوس نے کہا کہ چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت کا سب سے بڑا فائدہ اس کا وسیع پیمانے پر استعمال اور تیز رفتار عملی نفاذ ہے، جہاں مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کو فوری طور پر لاگو کیا جا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت کے علاوہ نئی توانائی، انسان نما روبوٹس اور کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی تیز رفتار پیش رفت نے عالمی مندوبین کو حیران کر دیا ہے۔شرکاء کا کہنا ہے کہ چین نے کئی دہائیوں سے بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل اور اختراعی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے، اور اب یہ عالمی معیشت کی تبدیلی کا اہم انجن بن چکا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میرک دوسیک نے کہا کہ ایشیا عالمی معاشی نمو کا تقریباً 60 فیصد حصہ فراہم کر رہا ہے، جس میں چین کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔ ان کے مطابق چین کی اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ اور توانائی کی ٹیکنالوجی اب اس کی ترقی کے نئے انجن ہیں، جو عالمی معیشت کے رخ کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔