وسیع پیمانے پر اختراع چین کے نئے ترقیاتی مواقع کی علامت ہے ، چینی میڈیا

0

بیجنگ :دالیان میں منعقد ہونے والے 2026 سمر ڈیووس فورم میں 90 سے زائد ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 1700 سے زیادہ مندوبین نے ” وسیع پیمانے پر اختراع” کے موضوع پر تبادلۂ خیال کیا اور عالمی سائنسی و تکنیکی تعاون کے مستقبل کے لیے نئی جہتوں پر غور کیا۔ فورم نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا کہ چین اپنی مضبوط اختراعی صلاحیت کے ساتھ عالمی برادری کے لیے "چین کے ترقیاتی مواقع 2.0فراہم کر رہا ہے۔”بڑے پیمانے پر اختراع” سے مراد نئی ٹیکنالوجیز کا وسیع پیمانے پر عملی استعمال ہے، جو اختراع کی قدر میں اضافہ کرنے اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میرک دوسیک نے کہا کہ چین نے بڑے پیمانے پر اختراع کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال نے حقیقی معیشت اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار دی ہے، جبکہ دنیا چین کے تجربات سے سیکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔2025 کے گلوبل انوویشن انڈیکس کے مطابق چین پہلی مرتبہ دنیا کے سرفہرست دس اختراعی ممالک میں شامل ہوا ہے، جبکہ دنیا کے 100 بہترین اختراعی کلسٹرز میں چین مسلسل تیسرے سال بھی پہلے نمبر پر رہا۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح ورلڈ اکنامک فورم کی تازہ ترین "اے آئی ایپلیکیشن اسٹارز” فہرست میں شامل نصف سے زیادہ کامیاب مثالیں چین سے تعلق رکھتی ہیں۔بین الاقوامی کاروباری اداروں کے لیے "چین کے ترقیاتی مواقع 2.0 کا مطلب صرف سرمایہ کاری کے نئے امکانات نہیں بلکہ جدت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہمہ جہت تعاون بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ د ملٹی نیشنل کمپنیوں نے چین میں اپنے تحقیق و ترقی کے مراکز اور علاقائی ہیڈکوارٹرز قائم کیے ہیں، جہاں ان کی حکمت عملی "چین میں پیداوار” سے آگے بڑھ کر "چین میں اختراع” تک پہنچ چکی ہے۔عالمی ترقی کے تناظر میں یہ نئے مواقع جدید ٹیکنالوجی تک زیادہ سے زیادہ رسائی اور اس کے ثمرات کی وسیع تر شراکت داری کی علامت ہیں۔ چین کھلے تعاون کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو نئی ٹیکنالوجیز اور جدید مصنوعات تک آسان رسائی فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مشترکہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔دالیان سمر ڈیووس فورم میں "وسیع پیمانے پر اختراع” کا نمایاں موضوع بن جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری چین کی اختراعی کامیابیوں کو تسلیم کر رہی ہے اور نئی عالمی اقتصادی نمو کے لیے چین کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.