چین غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بدستور پُرکشش رہا بیرونی کمپنیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ
بیجنگ :(چائنا ڈیسک )چین کی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں وزارتِ تجارت کے نائب وزیر اور بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کے نائب نمائندے لنگ جی نے غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار اور پالیسی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری والی کمپنیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حامل اداروں کی تعداد 5 لاکھ 33 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم تقریباً 4 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے ۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس میں اوسطاً 3.6 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران 8 ہزار سے زائد غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کیا، جو سالانہ بنیاد پر 10 فیصد سے زیادہ نمو ظاہر کرتا ہے۔ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں تقریباً 4 ہزار غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں اضافی سرمایہ کاری کی۔ اعداد و شمار کے مطابق” چودہویں پانچ سالہ منصوبے” کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری والے اداروں کی مجموعی کاروباری آمدنی 262.7 ٹریلین یوان اور منافع 21.4 ٹریلین یوان رہا، جبکہ دونوں اشاریوں میں اوسط سالانہ اضافہ تقریباً 5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں غیر ملکی کمپنیوں کی درآمدات و برآمدات کا حجم 866.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچا، جو چین کی مجموعی غیر ملکی تجارت کا 29.1 فیصد بنتا ہے۔ اس موقع پر لنگ جی نے امریکی کاروباری تنظیم امریکہ۔چین تجارتی کونسل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سروے میں شامل 92 فیصد امریکی کمپنیوں نے گزشتہ سال چین میں منافع حاصل کرنے کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ترقی پذیر ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا مرکز برقرار ہے اور عالمی سطح پر سرحد پار سرمایہ کاری کے اہم ترین مقامات میں مسلسل شامل ہے۔