چین میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع، غیر ملکی کمپنیوں کا اعتماد مزید مضبوط ، چینی میڈیا

0

بیجنگ : ساتویں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رہنماؤں کی چھنگ ڈاؤ سمٹ کے اختتام پر متعدد عالمی کمپنیوں کے نمائندوں نے چین کو "ناقابلِ متبادل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی کاروبار کو وسعت دینے، سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے چین ایک ناگزیر شراکت دار بن چکا ہے۔ اجلاس میں دنیا کے 44 ممالک اور خطوں سے 322 غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس دوران 57 اہم منصوبوں پر دستخط کیے گئے، جن میں 20 غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی مجموعی مالیت 2.56 ارب امریکی ڈالر ہے۔ اجلاس کے دوران سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ "مشترکہ تخلیق” تھا۔ مختلف کمپنیوں کے سربراہان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ چین کی وسیع منڈی، مکمل صنعتی چین اور کھلے تعاون پر مبنی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے "چین میں، دنیا کے لیے” کے تصور کو عملی شکل دیں گے۔ چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اطلاقی منڈی، سب سے جامع صنعتی چین اور جدت طرازی کے متنوع مواقع کا حامل ملک بن چکا ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ چین کی مسلسل وسعت اختیار کرتی ہوئی اعلیٰ سطح کی کھلی معیشت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مستحکم پالیسی ماحول فراہم کر رہی ہے۔ رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران چین میں 20 ہزار سے زائد نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کی حامل کمپنیاں قائم ہوئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.8 فیصد زیادہ ہیں۔ غیر ملکی کمپنیوں کا سفر اب "چین میں داخل ہونے” سے آگے بڑھ کر "چین میں جڑیں مضبوط کرنے” اور "چین کے ساتھ مشترکہ تخلیق ” کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس رجحان سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ چین پر اعتماد مستقبل پر اعتماد کے مترادف ہے اور چین میں سرمایہ کاری دراصل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.