پاک۔چین کہانیاں|چین میں پاکستانی طا لبعلم اپنی تحقیق سے فنڈ حاصل کر نے میں کا میاب ہو گیا

0

بیجنگ (شِنہوا)چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علم محمد صدام حسین کی شاندار کا کردگی کے اعتراف میں انہیں نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن آف چائنہ (این ایس ایف سی) کے تحت ایکسیلنٹ فارن اسٹوڈنٹس فنڈ سے نوازا گیا۔صدام حسین نے بتایا کہ یہ تعلیمی شعبے میں طالب علموں کے لیے انتہائی اعزاز کا حامل ہے اور بطور پاکستانی طالب علم انہیں یہ فنڈ حاصل کر کے بہت فخر محسوس ہوا، جو پاکستانی طالب علموں کی علمی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان سے تعلق رکھنے والے صدام حسین نے ستمبر 2019 میں چین کے مشرقی صوبہ شان ڈونگ کے شہر چھنگ ڈاؤ میں واقع چا ئنہ یونیورسٹی آف پیٹرولیم (ایسٹ چائنہ) سے کیمیکل انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں ماسٹرز ڈگری کا آغاز کیا جہاں انہوں نے آئل ریفائنری آپٹیمائزیشن جیسے اہم شعبے میں تحقیق مکمل کی اور جون 2022 میں اپنی ڈگری مکمل کی۔بعد ازاں انہوں نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں موجود جامعہ چھنگہوا یونیورسٹی میں انرجی اور پاور انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کا آغاز کیاجہاں ان کی تحقیق کاربن کیپچر اینڈ یوٹیلائزیشن جیسے جدید اور ماحول دوست موضوع پر مبنی ہے۔محمد صدام حسین نے چین کے تعلیمی نظام کو دنیا کا بہترین نظام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں جدید تحقیق، عملی تربیت اور عالمی معیار کی سہولیات میسر ہیں۔ چینی اساتذہ پیشہ ورانہ رویے کے ساتھ طلبہ میں آزادانہ سوچ اور جدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ چینی طلبہ کی محنت اور سیکھنے کی جستجو کی بدولت وہاں تحقیق کا ایک مثالی ماحول قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں قیام کے دوران انہوں نے نہ صرف جدید سائنسی علوم سیکھے بلکہ تحقیق کو عملی زندگی سے جوڑنے کا ہنر بھی حاصل کیا۔اپنی تحقیق کے حوالے سے صدام حسین نے بتایا کہ کاربن کیپچر اینڈ یوٹیلائزیشن جیسے جدید شعبے میں ان کا حاصل کردہ علم، مستقبل میں پاکستان کو درپیش توانائی اور ماحولیاتی چیلنجز کے حل کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے اس تجربے کو پاکستان کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں۔انہوں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت دونوں ممالک کے مضبوط ہوتے تعلیمی تعلقات کو سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت پاکستانی طلبہ کو چین میں تعلیم کے ایسے وسیع مواقع ملے جو مغربی ممالک میں حاصل نہیں تھے۔ اس وقت دونوں ممالک کے طلبہ ‘نالج شیئرنگ’ کے ذریعے ایک دوسرے کی تحقیق کو مضبوط بنا رہے ہیں، اور ان کی اپنی تعلیمی و تحقیقی کامیابیاں پاک-چین مضبوط شراکت داری کی ایک روشن مثال ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.