چین،شی زانگ میں خوشحالی کی جھلک،ایک نئی زندگی کی داستان

0

بیجنگ:مارچ کے مہینے میں شی زانگ کی سردی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم دھوپ کی ہلکی سی حدت ہر گاؤں اور ہر گھر تک پہنچ رہی ہے۔28 مارچ کو شی زانگ میں دس لاکھ زرعی غلاموں کی آزادی کا 18واں یادگار دن ہے۔ یہ دن ایسا ہے جسے شی زانگ کے عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ یہ ماضی کے 67 برسوں کا جائزہ بھی ہے اور ایک نئی زندگی کی تمہید بھی۔

سنہ 1959کے موسمِ بہار میں ایک عظیم جمہوری اصلاحات کی تحریک نے جاگیردارانہ زرعی غلامی کے نظام کی زنجیروں کو مکمل طور پر توڑ ڈالا۔اس دور میں آبادی کے 95 فیصد سے زائد افراد غلام تھے، جن کے پاس اپنی پرچھائیں کے سوا کچھ نہ تھا۔ انہیں محض بولنے والے اوزار سمجھا جاتا تھا اور بنیادی انسانی آزادی بھی ان کے لیے خواب تھی۔ آج، دہائیوں بعد، اگرچہ اس نسل کے اکثر افراد دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کی آنے والی نسلیں اس سرزمین پر مالک کی حیثیت سے باوقار زندگی گزار رہی ہیں اور اپنی خوشحالی خود تخلیق کر رہی ہیں۔

آج کے شی زانگ میں داخل ہوں تو کیا نئی تصویر سامنے آتی ہے ؟

شان نان شہر کے ایک گاؤں میں کسانوں کے لیے حال ہی میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس سال مارچ میں دیہی گھروں کی زلزلہ مزاحم اور توانائی بچانے والی تعمیرِ نو کا منصوبہ مکمل طور پر شروع کیا گیا، تاکہ عوام کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ رہائش میسر آ سکے۔ گاؤں والوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ "حقیقی گھر” ہے۔لہاسا کے شہری علاقوں میں بھی پرانی بستیوں کی مرمت جاری ہے، جہاں سڑکیں، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات بہتر بنائی جا رہی ہیں تاکہ مقامی باشندے زیادہ محفوظ اور آرام دہ گھروں میں رہ سکیں۔یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں دراصل عوامی زندگی میں بڑی بہتری کی حقیقی عکاس ہیں۔

آج شی زانگ میں، سڑکوں کی مجموعی لمبائی 1 لاکھ 20 ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جدید ہائی اسپیڈ ٹرینیں چل رہی ہیں، اور اندرون و بیرون ملک پروازوں کی تعداد 172 تک پہنچ گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی سو فیصد ہو چکی ہے۔ آج شی زانگ میں بالٹی سے پائپ تک، تیل کے چراغ سے بجلی تک، کچی سڑکوں سے پختہ شاہراہوں تک، اور خیموں سے پختہ گھروں تک ایک تاریخی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

زرعی شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔67 برس پہلے زرعی غلام سارا سال جاگیرداروں کی زمین پر محنت کرتے تھے، مگر ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہ ہوتی تھی۔آج، شی زانگ کے کسانوں نے فائیو جی اسمارٹ زراعت کا نظام اپنا لیا ہے۔چھانگڈو شہر کی لو لونگ کاؤنٹی میں، جو ” مشرقی شی زانگ کا اناج کا گودام” کے طور پر مشہور ہے، کاشتکار زاشی ڈونژو اپنے کھیت کو دیکھتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں: ” گذشتہ سالوں میں فی مو پیداوار 150 کلوگرام سے کم تھی، اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فی مو پیداوار 400 کلوگرام سے بھی زائد ہے۔ لولونگ کاؤنٹی نے آرڈر ایگریکلچر کے ذریعے خریداری کے چینلز بھی کھولے ہیں، جس سے زرعی مصنوعات سطح مرتفع سے نکل کر پورے ملک تک پہنچ رہی ہیں۔ شان نان شہر کی تحصیل آزا میں، جو کبھی ویران ریگستان تھا، آج وہاں قطار در قطار گرین ہاؤس قائم ہیں۔ یہاں پیدا ہونے والی بلیو بیری کو گرین زرعی مصنوعات کا سرٹیفکیٹ حاصل ہو چکا ہے، اور 2025 میں اس کی فروخت 80 لاکھ یوآن سے تجاوز کر گئی۔اسی طرح ، چو ناہ شہر کی لیمنبا قومیتی تحصیل میں، چائے کے باغات نے اس سرحدی علاقے میں نئی زندگی بھر دی ہے۔

بلند پہاڑی جو سے بلیوبیری تک، چائے کی پتی سے تبتی ادویات تک، شی زانگ کی مخصوص صنعتیں تیزی سے فروغ پا رہی ہیں۔2024 میں شی زانگ کے دیہی باشندوں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی پہلی بار 20 ہزار یوآن سے تجاوز کر گئی۔ اس عدد کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی، بچوں کے نئے بستے، بزرگوں کے علاج کے اخراجات، اور نوجوانوں کے کاروبار کے لیے سرمایہ پوشیدہ ہے۔

آج کا شی زانگ نہ صرف معاشی ترقی اور عوامی فلاح کا مظہر ہے بلکہ کھلے پن،خود اعتمادی اور قومی یکجہتی کی نئی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔شی زانگ کے ثقافتی ورثے کو بھرپور تحفظ دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی میدان میں شی زانگ نے سب سے پہلے 15 سالہ مفت تعلیم کا نظام نافذ کیا، اور مختلف سطحوں پر 3600 سے زائد تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے۔ سماجی تحفظ کا نظام شہری و دیہی دونوں علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، اور اس میں شمولیت کی شرح مسلسل 98 فیصد سے زائد برقرار ہے۔آج کے شی زانگ میں 624 معتدل خوشحال دیہات مکمل ہو چکے ہیں، براڈ بینڈ اور فور جی سگنل کی رسائی 100 فیصد ہے، اور مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ گیسان پھول کی مانند اس برفانی سرزمین میں جڑے ہوئے ہیں۔

ایک ہم آہنگ، مستحکم، متحد، خوشحال اور ماحولیاتی طور پر متوازن نیا شی زانگ دنیا کی چھت پر سربلند کھڑا ہے۔28 مارچ کا دن شی زانگ کی تمام قومیتوں کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ یہ یاد کا دن بھی ہے، ماضی کا جائزہ بھی، اور مستقبل کی جانب پیش قدمی کا اعلان بھی۔

جب سورج کی کرنیں پوتالا محل کے سنہری گنبد پر پڑتی ہیں، جب "فوشینگ” ہائی اسپیڈ ٹرین برف پوش پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی ہے، جب پہاڑی جو کے کھیتوں میں گونجنے والے نغمے ہوا میں بکھرتے ہیں، اور جب سرحدی چائے کے باغات میں نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں ،تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ تاریک، ظالمانہ اور بے وقار پرانا دور ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اندھیروں میں دفن ہو چکا ہے۔شی زانگ کے عوام کی خوشحال نئی زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ لکھی جا رہی ہے، تخلیق ہو رہی ہے اور دیکھی جا رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.