چین اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا نیا دور
نئی دہلی :چین کے نائب وزیر خارجہ ما چھاؤ شو نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کے ساتھ چین۔بھارت اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ایک نئے دور کا انعقاد کیا۔ مذاکرات کے دوران فریقین نے بین الاقوامی صورتِ حال، اپنی اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں، باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی و علاقائی امور اور چین۔بھارت دوطرفہ تعلقات پر دوستانہ، واضح اور تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں گہری اور پیچیدہ تبدیلیوں کے تناظر میں چین اور بھارت کو چاہیے کہ وہ چین کے صدر شی جن پھنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ چین۔بھارت تعلقات کو اسٹریٹجک بلندی اور طویل المدتی نقطۂ نظر سے دیکھا اور سنبھالا جائے، اس اسٹریٹجک ادراک پر قائم رہا جائے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں نہ کہ حریف، اور ایک دوسرے کے لیے ترقی کے مواقع ہیں نہ کہ خطرہ۔ مذاکرات میں باہمی اعتماد میں اضافے، تعاون کے دائرۂ کار کو وسعت دینے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ چین۔بھارت تعلقات کو صحت مند اور مستحکم راستے پر آگے بڑھایا جا سکے۔فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ آئندہ دو برسوں میں باری باری برکس ممالک کی صدارت کے دوران ایک دوسرے کی حمایت کریں گے، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی تائید کریں گے، گلوبل ساؤتھ کے درمیان اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنائیں گے، بین الاقوامی عدل و انصاف کا دفاع کریں گے اور کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل کو فروغ دیں گے، تاکہ ایشیا سمیت پوری دنیا میں امن اور ترقی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔