سرحدوں سے ماورا علاج: پاکستانی طلبہ کا چین میں زندگی بچانے والی مہارتوں کا حصول
ہائیکو (شِنہوا) چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے دارالحکومت ہائیکو میں حال ہی میں ٹراما فرسٹ ایڈ سرٹیفیکیشن ٹریننگ پروگرام کا آغاز ہوا جس میں پاکستان، انڈونیشیا، لاؤس، مڈغاسکر، کمبوڈیا اور میانمار سمیت 6 ممالک کے بین الاقوامی طلبہ نے شرکت کی۔ماہر انسٹرکٹرز کی نگرانی میں طلبہ نے ہنگامی ردعمل کی ضروری مہارتوں کی مشق کی اور عام چوٹوں جیسے کہ کٹ لگنے، رگڑ آنے اور ہڈی ٹوٹنے کے علاج کے طریقے سیکھے۔ عملی سیشنز کے دوران انہیں سر، بازوؤں اور ٹانگوں کے لئے تکونی پٹیوں اور جالی دار پٹی کے استعمال کے درست طریقے سکھائے گئے، ساتھ ہی خون بہنے کو روکنے اور متاثرہ حصے کو ساکن کرنے جیسے اہم طریقہ کار کی تربیت بھی دی گئی۔اس کورس میں ابتدائی طبی امداد سے متعلق عام غلط فہمیوں جیسے پٹی کو ضرورت سے زیادہ سخت باندھنا یا زخم کی غلط دیکھ بھال کرنے پر بھی بات کی گئی تاکہ شرکاء ہنگامی علاج کے بارے میں زیادہ سائنسی اور عملی سمجھ بوجھ پیدا کر سکیں۔انسٹرکٹر یو کائی ہوئی کے مطابق اس پروگرام کے فارغ التحصیل طلبہ کو بیلٹ اینڈ روڈ فرسٹ ایڈ رضاکار ڈیٹا بیس میں شامل کیا جائے گا۔ مستقبل میں یہ طلبہ اہم صنعتی پارکوں میں ہنگامی مشقوں میں حصہ لے سکتے ہیں، بین الاقوامی فورمز کے لئے طبی مدد فراہم کر سکتے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں اور لسانی برتری کی بدولت سرحد پار آفات میں امدادی کوششوں میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔یو نے کہا کہ ان میں سے بہت سے طلبہ کا تعلق بیلٹ اینڈ روڈ کے ممالک سے ہے۔ انہیں یہاں ابتدائی طبی امداد کی مہارتوں سے لیس کر کےہم نہ صرف عملی صلاحیتیں سکھا رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کے تبادلے کے ذریعے ہنگامی دیکھ بھال میں چین کے تجربے کو دنیا تک پہنچانے کے قابل بھی بنا رہے ہیں۔تربیت حاصل کرنے والوں میں پاکستانی طالبہ خالد ماہین بھی شامل ہیں جو کلینیکل میڈیسن کی طالبہ ہیں۔ وہ پہلے ہی اپنے فارغ وقت میں ہائی نان کی مقامی کمیونٹیز میں ابتدائی طبی امداد کی متعدد سرگرمیوں میں حصہ لے چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس طرح کی تربیت بہت بامقصد ہے۔ یہ صرف تکنیک سیکھنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس قابل ہونے کے بارے میں ہے کہ جب دوسروں کو سب سے زیادہ ضرورت ہو تو آپ ان کی مدد کر سکیں۔ میں اس موقع کے لئے شکر گزار ہوں اور امید کرتی ہوں کہ مستقبل میں اس طرح کے مزید پروگراموں میں حصہ لوں گی۔مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے ماہین نے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی سیکھی ہوئی مہارتیں اپنے وطن واپس لے کر جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گریجویشن کے بعد میں پاکستان واپس جانا چاہتی ہوں اور چین میں حاصل کردہ طبی معلومات اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آبائی شہر کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔