جاپان کے متعدد شہروں میں "آئین میں ترمیم اور عسکری توسیع کے مسلسل اقدامات” پر شدید احتجاج
ٹوکیو: چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہزاروں جاپانی شہریوں نے جاپانی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں جاپانی حکومت کی جانب سے "آئین میں ترمیم اور عسکری توسیع کے مسلسل اقدامات” پر شدید احتجاج اور عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ جاپانی پارلیمنٹ نے مالی سال 2026 کے بجٹ کی منظوری دی تھی، جس میں دفاعی اخراجات 9 ٹریلین ین سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپانی حکومت جلد ہی ‘دفاعی سازوسامان کی منتقلی کے تین اصول’ اور اس کے استعمال کے رہنما نکات میں ترمیم کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے، تاکہ جاپان کی جانب سے بیرونِ ملک اسلحہ کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جا سکے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات جاپان کے آئین کے امن پسند اصولوں کے منافی ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جاپانی آئین کے آرٹیکل 9 کی موجودگی کی بدولت ہی جاپان گزشتہ 80 برسوں سے جنگ میں ملوث ہونے سے بچا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بہت سے شہری معاشی مشکلات کا شکار ہیں، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس آمدن کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرے نہ کہ دفاعی بجٹ میں اضافے پر۔ مظاہرین نے آئین میں منفی سمت میں ترمیم اور جاپان کی موجودہ سیاسی سمت تبدیل کرنے کی سختی سے مخالفت کی۔ رپورٹس کے مطابق صرف ٹوکیو ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تقریباً سو مقامات پر بیک وقت احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امن پسند آئینی اصولوں کی پاسداری کرے۔