چین اور برطانیہ کے درمیان شراکت داری وقت کی ضرورت ہے، چینی وزیر خارجہ

0

بیجنگ : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں برطانوی وزیرِاعظم کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول سے ملاقات کی۔منگل کے روز وانگ ای نے کہا کہ رواں سال جنوری میں برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کا کامیاب اور تاریخی دورۂ چین دونوں ممالک کے مختلف حلقوں اور عالمی رائے عامہ میں مثبت انداز میں سراہا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین اور برطانیہ کے درمیان طویل المدتی اور مستحکم جامع تزویراتی شراکت داری وقت کی ضرورت اور عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے قریب آ کر تعمیری رابطہ برقرار رکھنے سے اختلافات اور چیلنجز کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے اور باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ اعلیٰ قیادت کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کریں، مختلف سطحوں پر روابط کو فروغ دیں، تعاون کو وسعت دیں، اختلافات کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھیں اور دوطرفہ تعلقات کو مستحکم انداز میں آگے بڑھائیں۔جوناتھن پاول نے کہا کہ برطانیہ چین کے ساتھ وزیرِاعظم اسٹارمر کے دورۂ چین کے نتائج پر عمل درآمد کا خواہاں ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور تعاون کو مضبوط بنا کر طویل المدتی مستحکم جامع تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے ایران کی صورتحال اور یوکرین بحران سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وانگ ای نے چین کے منطقی اور منصفانہ مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی صورتحال کے اثرات پھیل رہے ہیں، جنگ کا طول پکڑنا مزید نقصان اور سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں فریقین کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے مسئلے کو مذاکرات اور سیاسی حل کی جانب واپس لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.