جاپان کا چین کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے پروپیگنڈا اپنی عسکری توسیع کے لیے محض ایک بہانہ ہے، چینی وزارت دفاع
بیجنگ :حال ہی میں جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری نے کہا ہے کہ چین اپنے دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ۔ چینی وزارت دفاع کے انفارمیشن بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ترجمان، سینئر کرنل جیانگ بن نے اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چین کے دفاعی اخراجات کا جی ڈی پی میں تناسب طویل عرصے سے 1.5 فیصد سے کم رہا ہے، جو امریکہ جیسے بڑے عسکری ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے، بلکہ عالمی اوسط اور نیٹو ممالک کے اس معیار سے بھی کم ہے جہاں دفاعی اخراجات عموماً جی ڈی پی کے 2 فیصد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہمیشہ معقول، معتدل اور محتاط نوعیت کا رہا ہے، جس کا مقصد قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ اور عالمی امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ چین کی فوج جتنی مضبوط ہوگی، دنیا میں امن کے امکانات بھی اتنے ہی بڑھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جاپان کے بعض سیاستدان چین کے دفاعی بجٹ اور نام نہاد "چین خطرہ” کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو دراصل اپنی عسکری توسیع اور اسلحے کے ذخیرے کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کا دفاعی بجٹ مسلسل 14 سال سے بڑھ رہا ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں اس میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 2 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ جاپان کی فی کس دفاعی لاگت چین کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ہے، اور ماضی کی جارحیت کا مکمل حساب نہ دینے کے باوجود اس کی دوبارہ عسکریت کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔