ہنگامہ خیز دنیا میں گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو کی اہمیت میں اضافہ

0

بیجنگ : آج دنیا میں تبدیلی کی رفتار تیز ہو گئی ہے اور دنیا بظاہر اعتماد کے بحران کا شکار نظر آتی ہے ۔علاقائی تنازعات مسلسل بڑھ رہے ہیں، یکطرفہ پسندی ، تہذیب کی برتری کے نظریات اور "تہذیبوں کے تصادم” جیسے بیانیے دوبارہ اُبھرتے نظر آرہے ہیں ۔ ایک ایسی گہری تقسیم شدہ دنیا کے سامنے ، چین کے صدر شی جن پھنگ نے 15 مارچ 2023 کو گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو پیش کیا، جو اپنی عمیق تہذیبی بصیرت اور عملی راستے کی بنیاد پر، دور حاضر کی اپنی منفرد قدر کو ظاہر کر تا ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے اور دنیا کی تہذیبی ساخت کو ایک نئی شکل دینے والی ایک اہم قوت بنتا جا رہا ہے ۔آج کی عالمی دنیا میں افرا تفری کی بڑی وجہ ایک گہری ذہنی سوچ ہے جس میں تہذیبی اختلافات کو تصادم کی جڑ سمجھا جاتا ہے اور نظریاتی اختلافات کو "زیرو سم گیم ” میں بدل دیا جاتا ہے ۔ کچھ ممالک ‘تہذیب کی برتری کے نظریہ’ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اقدار کے معیار کے مطابق دنیا کو دوبارہ بنانے کی کوشش میں ہیں ، جس کے نتیجے میں خود ساختہ رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور دنیا میں افراتفری بڑھ جاتی ہے۔گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو کی قدر اس بات میں ہے کہ یہ اس سوچ کو بنیادی طور پر مسترد کرتا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ تہذیبوں میں نہ کوئی اعلیٰ و ادنیٰ ہے اور نہ ہی برتر و کمتر؛ صرف خصوصیات اور جغرافیائی فرق ہیں ۔ جب روسی اسکالرز افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ "سیاسی انتشار دنیا کو غلط سمت کی جانب لے جا رہا ہے” اور جب قازقستانی حکام "تہذیبوں کے تنوع کا احترام کرتے ہوئے” دنیا کے لیے ایک مثال قائم کرنے پر چین کی تعریف کرتے ہیں، تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی خواہش تصادم کی بجائے بات چیت ہے۔کیا جدیدیت کا مطلب مغربیت ہے؟ یہ ترقی پزیر ممالک کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو نے واضح اور پختہ جواب دیا ہے کہ ہر ملک کو اپنی ترقی کے راستے کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے، جدیدیت صرف چند خاص تہذیبوں کی ملکیت نہیں ہے۔یہ نتیجہ دور حاضر میں انتہائی عملی اہمیت رکھتا ہے۔ جب کچھ ممالک مغربی ماڈل کی نقل کر کے ‘ترقیاتی بحران اور ذہنی الجھن’ میں مبتلا ہوتے ہیں، اور جب گلوبل ساؤتھ کے ممالک اپنی مخصوص خصوصیات کے مطابق جدیدیت کا راستہ تلاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، تو چینی طرزِ جدیدیت کی کامیاب عملی مثال ایک نیا انتخاب فراہم کرتی ہے۔ یہ دنیا کو بتاتی ہے کہ جدیدیت روایت کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے، اور مختلف اچھائیوں کو اپناتے ہوئے جدت قائم کی جا سکتی ہے۔ گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو "تہذیب کی میراث اور جدت کو اہمیت دینے” کی وکالت کرتا ہے، اور اس سے انسانی تہذیب کے تنوع کو نئی زندگی ملتی ہے ۔گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی اہمیت کی اصل قوت اس میں ہے کہ یہ جلد ہی ایک نظریے سے بڑھ کر عملی اقدامات میں بدل گیا ہے اور چین کی پیش کردہ تجویز سے عالمی اتفاقِ رائے بن گیا ہے ۔ 2025 تک، چین نے 157 ممالک کے ساتھ ثقافتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، گلوبل سولائزیشن انیش ایٹو کے وزارتی اجلاس میں 140 سے زائد ممالک اور علاقوں کے نمائندگان نے حصہ لیا، اور اقوام متحدہ کی اٹھترویں جنرل اسمبلی نے چین کے تجویز کردہ تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے عالمی دن کے قیام کے فیصلے پر متفقہ طور پر عمل کیا، اور مختلف ثقافتی تبادلے کے لیے ایک کثیرالجہتی میکانزم کو قائم کیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انیشی ایٹو کو عملی اقدام میں بدلا گیا ہے ، جو دنیا کو یکطرفہ ثقافتی اثر سے کثیرالجہتی تہذیبی تبادلے کی طرف لے جا رہا ہے۔مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو نے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے ساتھ مل کر ایک جامع شکل اختیار کر لی ہے۔انسان کو تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھ سے باہمی اعتماد کو بڑھانا چاہیے، مشترکہ ترقی سے خوشحالی کو فروغ دینا چاہیے، عالمی سلامتی کے ذریعے استحکام کو یقینی بنانا چاہیے اور بہتر طرز حکمرانی کے ذریعے ہم آہنگی حاصل کرنی چاہیے۔ ایسی جامع سوچ آج دنیا کو درپیش سنگین چیلنجوں کا جواب دیتی ہے کیوں کہ ایک دوسرے کی تہذیبی تفہیم کے بغیر حقیقی سلامتی کا حصول مشکل ہےا ور ثقافتی شناخت کے بغیر پائیدار ترقی ناممکن ہے۔آج انسانیت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں دو راستے موجود ہیں، یا تو بدگمانی اور تصادم دنیا کو مزید بحران میں دھکیل دیں، یا پھر تہذیبی مکالمے کی روح کو زندہ کر کے رواداری اور باہمی سیکھ کے ذریعے مشترکہ ترقی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ گلوبل سولائیزیشن انیشی ایٹو کی اہمیت اسی میں ہے کہ یہ دوسرے راستے کے لیے فکری بنیاد اور عملی راستہ فراہم کرتا ہے۔۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ "تمام تہذیبی کامیابیاں انسانیت کے مشترکہ اثاثے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب جنگ کے شعلے اور تفریق انسان کی مشترکہ تقدیر کو جدا کرنے کی کوشش میں ہیں ، یہ انیشی ایٹو ایک پل کی مانند ہے، جو مختلف تہذیبوں کی خوبیوں اور خواہشات کو جوڑتا ہے، اور افراتفری کا شکار اس دنیا کو نایاب یقین فراہم کرتا ہے۔ آج تہذیبوں کے درمیان مکالمہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ ممکن بھی۔ کیونکہ جوہری خطرات اور موسمیاتی بحران کے اس دور میں انسانیت دراصل ایک مشترکہ تقدیر رکھنے والی برادری بن چکی ہے۔ یہ محض ایک نظریہ نہیں بلکہ بقا کی ایک عملی حقیقت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.