مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات پر گہری تشویش ہے ، چینی وزارت خارجہ
بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے بعد کشیدہ علاقائی صورتحال میں کمی کے لیے چین کی کوششوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین کو مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ہے اور چین نے مصالحتی اقدامات تیز کیے ہیں ۔ جمعرات کے روز ترجمان نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے روس، ایران، عمان، فرانس، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر الگ الگ بات کی ہے اور علاقائی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے ۔ان رابطوں میں وانگ ای نے کہا ہے کہ فوری طور پر فوجی کارروائیوں کو روکنا چاہیے اور مذاکراتی عمل کی طرف واپس جانا چاہیے، تاکہ کشیدگی میں اضافے اور جنگ کی آگ کے مزید پھیلاؤ سے بچا جا سکے ۔ چینی وزیر خارجہ نے تنازع کے فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں، شہریوں کی حفاظت کریں اور شہری سہولیات پر حملوں سے گریز کریں۔وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ جنگ اور طاقت سے مسائل کا بنیادی حل ممکن نہیں اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا درست راستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین مختلف فریقوں بشمول تنازع کے مرکزی فریقوں کے ساتھ رابطہ جاری رکھے گا، مصالحت کو مضبوط کرے گا اور مسئلے کے حل کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ چین مستقبل قریب میں اپنے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی زائی جُوَن کو مشرق وسطیٰ کے سفر پر بھیجے گا تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مثبت کوششیں کی جا سکیں۔