چین کی اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر فوجی حملوں کی مخالفت

0

بیجنگ :کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون ساعر کی درخواست پر اُن سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ بین الاقوامی اور علاقائی ہاٹ اسپاٹ مسائل کو مکالمے اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کا حامی رہا ہے۔ تمام فریقوں کو اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے، جو اسرائیل سمیت تمام فریقوں کے بنیادی مفاد میں ہے۔ کئی برسوں سے چین ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ حالیہ ایران۔امریکہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی تھی، جس میں اسرائیل کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی شامل تھے، تاہم افسوس کہ یہ عمل گولہ باری کے باعث منقطع ہو گیا۔ چین اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کی مخالفت کرتا ہے۔ طاقت مسائل کا حقیقی حل نہیں، بلکہ نئے مسائل اور سنگین اثرات کو جنم دیتی ہے۔ عسکری قوت کی اصل قدر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ جنگ کی روک تھام میں ہے۔ چین فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے اور جنگ کے پھیلاؤ کو قابو سے باہر ہونے سے بچانے کی اپیل کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے پر چین ہمیشہ منصفانہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔وانگ ای نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ چینی شہریوں اور اداروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ساعر نے کہا کہ اسرائیل اس معاملے کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور چینی شہریوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.