چین-جرمنی تعاون کے حوالے سے نئے سال کے آغاز پر نئے مواقع ، چینی میڈیا

0

بیجنگ :جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے اسی دن بیجنگ کے شہر ممنوعہ کے دورے کے دوران درج کی گئی نیک تمناؤں کا ذکر کیا۔ جرمن حکومت کی ویب سائٹ نے میرس کے دورہ چین کی مکمل رپورٹ دی، اور کہا کہ "چین اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنایا جائے گا” اور "دو طرفہ تعاون کو بہتر مستقبل کی طرف بڑھایا جائے گا”۔ میرس کے ہمراہ چین آنے والی جرمن کمپنیوں نے بھی کہا کہ چینی مارکیٹ ان کی منافع اور جدیدیت کا کلیدی ذریعہ ہے اور وہ چین میں اپنی سرمایہ کاری کو بڑھانے اور چینی طرز کی جدید یت کے مواقع سے مشترکہ طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔اس وقت، بین الاقوامی صورتحال دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے گہری تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ حالیہ دورہ چین سے قبل، چانسلر میرس نے میڈیا سے کہا کہ چین اہم عالمی طاقت بن چکا ہے ، عالمی مسائل کا حل چین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ، چین سے ‘الگ ہونا’ غلط ہے اور یہ محض خود کو نقصان پہنچائے گا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی کی چین سے متعلق پالیسی زیادہ معقول اور عملی رخ اختیار کر رہی ہے۔حالیہ برسوں میں، چین-جرمن تجارت 200 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ رہی ہے، اور دو طرفہ سرمایہ کاری کا حجم 65 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔یہ دونوں اعداد چین-یورپی یونین تجارت کے کل حجم کا تقریباً ایک چوتھائی ہیں۔ 2025 میں جرمنی یورپی یونین میں چین کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا ، جبکہ چین ایک سال کے بعد پھر جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن گیا ہے ۔ اس دفعہ جرمن کاروباری برادری کے 30 نمائندوں کا میرس کے ساتھ چین کے دورے پر آنا، جرمنی کی جانب سے دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔اس بار بیجنگ میں چینی اور جرمن رہنماؤں کے درمیان جو اتفاق رائے حاصل ہوا ہے، اس نے نئے سال میں چینی-جرمن تعاون کے لیے ایک اچھا آغاز فراہم کیا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ جرمنی رکاوٹوں کو مزید دور کرے گا، اور چین کے لیے معقول اور عملی پالیسی کو عملی جامہ پہنائے گا، تاکہ چین کے ساتھ مل کر چین-جرمنی تعلقات میں نئی رفتار اور یورپی یونین-چین تعلقات میں نئی توانائی پیدا ہو اور دنیا کو زیادہ استحکام فراہم ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.