ٹرمپ انتظامیہ کو بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت ٹیرف اقدامات کا واضح قانونی اختیار نہیں، امریکی سپریم کورٹ

0

واشنگٹن :وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن عارضی درآمدی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122 کے تحت حاصل اختیارات کا حوالہ دیا، جو صدر کو اضافی سرچارج اور دیگر خصوصی درآمدی پابندیوں کے ذریعے کچھ بنیادی بین الاقوامی ادائیگی کے مسائل حل کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے تجارتی نمائندے کے دفتر کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اپنے سیکشن 301 کے اختیارات کا استعمال کر کے کچھ غیر معقول اور امتیازی اقدامات، پالیسیوں اور طرز عمل کی تحقیقات کرے۔ اس اعلان میں امریکہ میں درآمد شدہ اشیاء پر 150 دن کی مدت کے لیے 10 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کیا گیا۔ یہ عارضی درآمدی ٹیرف 24 فروری سے نافذ العمل ہوگا ،لیکن کچھ اشیاء پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوگا۔ ان میں کچھ اہم معدنیات، کرنسیوں میں استعمال ہونے والی دھاتیں اور سونے و چاندی کی بارز، توانائی اور توانائی کی مصنوعات شامل ہیں۔اس کے علاوہ ، وہ قدرتی وسائل اور کھادیں جو امریکہ میں پیدا، نکالی یا مناسب مقدار میں تیار نہیں کی جا سکتیں؛ کچھ زرعی مصنوعات جن میں بیف، ٹماٹر اور سنترے شامل ہیں؛ ادویات اور دواسازی کے اجزاء؛ کچھ الیکٹرانک مصنوعات؛ مسافر گاڑیاں، کچھ ہلکے ،درمیانے اور بھاری ٹرک، بسیں اور مسافر گاڑیوں کے کچھ پرزے اور اجزاء ، بھاری گاڑیاں اور بسیں؛ کچھ ایرو اسپیس مصنوعات، معلوماتی مواد (مثلا کتابیں)، عطیہ شدہ اشیاء اور ذاتی سامان بھی استثنا میں شامل ہیں۔ اسی روز امریکی سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت بڑے پیمانے پر ٹیرف اقدامات کے لئے واضح قانونی اخیتار موجود نہیں تھا۔ تاہم، یہ فیصلہ صرف صدر کو انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے ذریعے محصولات عائد کرنے سے روکتا ہے اور ان کے محصولات عائد کرنے کے اختیارات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ امریکی سپریم کورٹ نےیہ وضاحت نہیں کی کہ پہلے سے وصول شدہ محصولات واپس کیے جائیں گے یا نہیں اور اگر کیے جائیں تو کس طریقۂ کار کے تحت۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت جاری کیے گئے متعلقہ ٹیرف اب مؤثر نہیں ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.