چین کی سوڈان تنازعہ کے حوالے سے "پانچ نکاتی اتفاق رائے” پر قائم رہنے کی درخواست
اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے سلامتی کونسل میں سوڈان کے مسئلے پر غور کے دوران کہا کہ سوڈان میں تنازع تقریباً تین سال سے جاری ہے اور چین اپیل کرتا ہے کہ عالمی برادری مندرجہ ذیل "پانچ نکاتی اتفاق رائے” پر عمل کرے تاکہ مشترکہ طور پر سوڈان کے تنازع کا دیرپا اور موثر حل تلاش کیا جا سکے۔
سب سے پہلے، ہمیں فوری جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے پر اتفاق رائے پر قائم رہنا چاہیے۔ بیرونی طاقتوں کو اپنی فوجی حمایت بند کرنی چاہیے۔ دوسرا، ہمیں انسانی بحران کے خاتمے پر اتفاق رائے کو برقرار رکھنا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو اپنی امدادی کوششوں میں اضافہ کرکے عطیات کے اپنے وعدوں کو ذمہ داری سے پورا کرنا چاہیے۔ تیسرا، ہمیں ثالثی اور مفاہمت کے اتفاق رائے کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ثالثی کے کسی بھی عمل میں سوڈان کے خدشات کا احترام کرتے ہوئے اس میں متعلقہ فریقین کی موثرشمولیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ چوتھا، سوڈانی عوام کی قیادت پر اتفاق رائے کو برقرار رکھنا چاہئے اور متوازی حکومتی اداروں کے قیام جیسے اقدامات کی مخالفت کی جانی چاہیئے جو قومی تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ پانچواں، ہمیں ترقی اور سلامتی کے توازن پر اتفاق رائے کو برقرار رکھنا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو اپنی سرمایہ کاری کو ہدفی انداز میں بڑھانا چاہیے تاکہ سوڈان کو ملک کی بتدریج ازسرنو تعمیر و ترقی میں مدد دی جائے۔ فو چھونگ نے کہا کہ سوڈان سمیت دنیا بھر کے مسلمان رمضان المبارک کا استقبال کر رہے ہیں۔ چین نے ایک بار پھر تنازعے کے تمام فریقوں سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین سوڈان میں دیرپا استحکام، ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہےگا۔