چین میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسدادِ بدعنوانی کی عملی اہمیت نے تو جہ حاصل کر لی، چینی میڈیا
بیجنگ ()
حالیہ دنوں ، چین کے شہر جیانگشان میں اسمارٹ نگرانی کے نظام کے ذریعے ٹینڈرنگ اور بولی کے عمل میں بدعنوانی کے ایک مقدمے کی درست نشاندہی نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ عالمی سطح پر جہاں مصنوعی ذہانت کو انسدادِ بدعنوانی کے لیے بروئے کار لانے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں چین کی عملی کاوش ایک منفرد راستہ پیش کرتی ہے۔ یہ راستہ محض ٹیکنالوجی پر انحصار یا انسانی کردار کی جگہ مصنوعی ذہانت کو بٹھانے تک محدود نہیں، بلکہ نگرانی کے پورے نظام میں مصنوعی ذہانت کو گہرائی سے ضم کرتے ہوئے "ادارہ جاتی فائدہ + ٹیکنالوجی کی طاقت” پر مبنی ایک نیا گورننس ماڈل تشکیل دیتا ہے، جس کی اہمیت محض تکنیکی اطلاق سے کہیں بڑھ کر ہے۔
روایتی انسدادِ بدعنوانی کے عمل کو بالخصوص ٹینڈرنگ جیسے پیشہ ورانہ شعبوں میں معلوماتی عدم توازن کا سامنا رہتا ہے۔ جیانگشان کا اسمارٹ نگرانی نظام بگ ڈیٹا کے کلیشن انالسس یعنی ” ٹکراؤ تجزیے” کے ذریعے غیر معمولی اسکورنگ، ملی بھگت اوربولی کے عمل میں گٹھ جوڑ جیسے پوشیدہ خطرات کی خودکار نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک تعمیراتی منصوبے کی جانچ کے دوران اس نظام نے یہ دریافت کیا کہ کامیاب قرار دی گئی کمپنی کے کریڈٹ اور تکنیکی اسکور اوسط سطح سے غیر معمولی حد تک ہٹے ہوئے ہیں، جس سے "ظاہری بولی، خفیہ فیصلہ” ہونے کا شبہ مضبوط ہوا اور تفتیشی اداروں کو درست سراغ ملا۔
اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی "یادداشت کی صلاحیت” ہے۔ مقدمے میں ملوث ایک فرد نے برسوں قبل اپنے عہدے کے ناجائز استعمال سے ٹینڈر کے معیارات میں ردوبدل کیا اور اسے محفوظ سمجھتا رہا، تاہم جیسے ہی تاریخی ڈیٹا چیکنگ نظام میں شامل ہوا، اس کے اقدامات کے نشانات فوری طور پر سامنے آ گئے۔ اس سے ایک اہم تبدیلی واضح ہوتی ہے کہ تکنیکی نگرانی مسلسل سراغ رسانی کی صلاحیت رکھتی ہے، چنانچہ بدعنوانی اگر عارضی طور پر چھپ بھی جائے تو مستقبل میں ڈیٹا اسے "بیدار” کر سکتا ہے، جس سے بد عنوانی کے خلاف ایک مستقل دباؤ قائم رہتا ہے۔
یقیناً، مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسدادِ بدعنوانی کی کوششیں صرف چین تک محدود نہیں۔ کئی ممالک اس سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں، جن میں جنوبی یورپ کا ملک البانیہ بھی شامل ہے۔ حال ہی میں البانیہ کی حکومت نے ایک ورچوئل اے آئی وزیر کو عوامی خریداری کا نگران مقرر کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد سرکاری ٹینڈرز کو مکمل طور پر بدعنوانی سے پاک بنانا ہے۔ڈیلا نامی یہ اے آئی معاون، جس کا مطلب "سورج” ہے، اس سال جنوری سے قومی ای گورننس پلیٹ فارم ای-البانیہ پر صارفین کو مشورہ فراہم کر رہی ہے، اور صوتی احکامات کے ذریعے تقریباً 95 فیصد سرکاری امور میں معاونت کر رہی ہے ۔ البانیہ کے وزیرِاعظم ایڈی راما کے مطابق، ڈیلا کابینہ کی پہلی رکن ہے جو جسمانی وجود کے بغیر اے آئی کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے، اور اس اقدام سے البانیہ کے "سو فیصد بدعنوانی سے پاک ٹینڈرنگ” کے ہدف کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔راما نے مزید کہا کہ ڈیلا حکومت اور نجی شعبے کے مابین ہونے والے تمام ٹینڈر معاہدوں کا معروضی جائزہ لے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت رشوت، دباؤ اور مفادات کے ٹکراو کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
ظاہر ہے، چین اور البانیہ کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسدادِ بدعنوانی کے راستوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ البانیہ کا ماڈل بظاہر "کردار کی تبدیلی” پر مبنی ہے، جہاں پورا عمل اے آئی کے سپرد کیا جاتا ہے، جبکہ چین نے "آلہ جاتی معاونت”کا راستہ اپنایا ہے۔ چین میں اسمارٹ نگرانی نظام تفتیشی اداروں کی جگہ نہیں لیتا بلکہ ایک پیشہ ورانہ آلے کے طور پر ان کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے: نظام خطرات کی پیشگی نشاندہی کرتا ہے، جب کہ بعد ازاں جانچ، کارروائی اور فیصلہ سازی قانون کے مطابق انسانی ادارے انجام دیتے ہیں۔ اس طرح ٹیکنالوجی کی تیزی اور تیز رفتار صلاحیتوں سے فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے اور فیصلہ سازی کو ادارہ جاتی دائرے میں رکھ کر نئے خطرات سے بھی بچا جاتا ہے۔ یہ فرق گہرے گورننس نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں چین مصنوعی ذہانت کو نظام کے نفاذ کی توسیع سمجھتا ہے، نہ کہ نظام سے ماورا ایک خودمختار قوت۔ ٹیکنالوجی مسائل کی شناخت کے لیے "تیز نگاہ” فراہم کرتی ہے اور نظام ان مسائل کے حل کے لیے "جراحی آلہ” بنتا ہے، یوں نگرانی کا ایک مکمل دائرہ تشکیل پاتا ہے۔
چین میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسدادِ بدعنوانی کی عملی اہمیت اس امر میں مضمر ہے کہ اس نے بدعنوانی کے تدارک کو محض ردِعمل سے نکال کر پیشگی روک تھام کی سمت منتقل کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مسلسل نگرانی کی صلاحیت نے اختیار کے پورے عمل کو نگرانی کے دائرے میں لا کر "بعد از وقوعہ کارروائی” کو "ہمہ وقت تحفظ” میں بدل دیا ہے، جس سے بدعنوانی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔دوسرا ، تکنیکی جدت نے ادارہ جاتی برتری کو مضبوط کیا ہے۔ چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کے نگرانی کے نظام کے تحت، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو بہترین اطلاق کا میدان ملا ہے ،جہاں مرکزی اور متحدہ نظام کے تحت تیز نفاذ ممکن ہوا اور عین اسی کے ساتھ درست نگرانی نے ادارہ جاتی کارکردگی میں اضافہ کیا۔جیانگشان شہر کے مذکورہ کیس میں، نظامی الرٹ سے لے کر تفتیش، اور پھر باہم مربوط مقدمات میں پیش رفت تک، نظام اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے پیدا ہونے والا ضربی اثر واضح دکھائی دیتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ عملی تجربہ عوامی اختیار کی نگرانی کے لیے ایک قابلِ نقل نمونہ فراہم کرتا ہے: ادارہ جاتی تقاضوں کو الگورتھم کی زبان میں ڈھال کر تکنیکی سختی کے ذریعے انسانی مداخلت کی گنجائش کم کی جاتی ہے اور "شفاف طریقِہ کار” کو ایک لازمی پابندی بنایا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف مخصوص شعبوں میں نظم و ضبط بہتر ہوتا ہے بلکہ دیگر اعلیٰ خطرے والے شعبوں میں نگرانی کی جدت کے لیے بھی رہنمائی ملتی ہے۔
چین کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسدادِ بدعنوانی کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ تکنیکی پیش رفت اُس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب وہ ادارہ جاتی برتری کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ جب الگورتھم کی قوت، تنظیمی ہم آہنگی سے ملتی ہے اور ڈیٹا کی بصیرت، ادارہ جاتی اختیار سے جڑتی ہے تو "1+1>2” کا انتظامی اثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ محض انسدادِ بدعنوانی کی تکنیکی بہتری نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں قومی نظامِ حکمرانی کی ہم عصر تصویر بھی ہے۔ مستقبل میں ٹیکنالوجی اور نظام کے باہمی ارتقا کے ساتھ "نظام بطور اساس، ٹیکنالوجی بطور وسیلہ” کا یہ ماڈل بدعنوانی سے پاک ملک کی تعمیر میں مزید قوت فراہم کرے گا اور عالمی سطح پر بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں چینی دانش کا منفرد اضافہ ثابت ہوگا۔