اعداد و شمار کے پس منظر میں چین

0

بیجنگ ()
حالیہ دنوں, چین کی جانب سے 2025 میں اقتصادی و سماجی ترقی سے متعلق متعدد اہم اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو 5.0 فیصد رہی، شہریوں کی فی کس قابل خرچ آمدنی میں 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مقررہ سائز سے بالا صنعتی اداروں کی اضافی قدر پچھلے سال کے مقابلے میں 5.9 فیصد بڑھی ۔…… یہ تمام اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین کی معیشت مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے اچھے آغاز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی توثیق کرتی ہے کہ چین کی معیشت بدستور عالمی اقتصادی ترقی کا اہم انجن ہے ۔ ان اعداد و شمار کے پس منظر میں چینی طرزِ ترقی کی بنیادی سمت اور نمایاں خصوصیات واضح طور پر سامنے آتی ہیں جنہیں کچھ مثالوں سے بیان کیا جا سکتا ہے:
6.0 فیصد: شہری و دیہی ہم آہنگی سے متوازن ترقی کا فروغ
2025 میں شہری اور دیہی باشندوں کی آمدنی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے ساتھ ترقی کا رجحان مزید متوازن ہوتا دکھائی دیا۔ شہری باشندوں کی فی کس قابل خرچ آمدنی 56,502 یوان رہی، جس میں حقیقی بنیادوں پر 4.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیہی باشندوں کی فی کس قابل خرچ آمدنی 24,456 یوان تک جا پہنچی ، جو حقیقی معنوں میں 6.0 فیصد کا اضافہ ہے۔
دیہی آمدنی کی شرحِ نمو کا شہری علاقوں سے زیادہ ہونا دیہی احیاء کی حکمتِ عملی کے گہرے نفاذ کا فطری نتیجہ ہے۔ زرعی معاون پالیسیوں سے لے کر دیہی صنعتوں کی اپ گریڈیشن، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی خدمات کی شہری و دیہی مساوات تک، پالیسی فوائد مسلسل دیہی علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ اس فرق کے پس منظر میں چین کی جانب سے شہری و دیہی عدم توازن کے مسئلے کو حل کرنے اور ترقی کے ثمرات کو زیادہ منصفانہ انداز میں عوام تک پہنچانے کا پختہ عزم کارفرما ہے، جو چینی طرزِ ترقی کی سائنسی بنیاد اور عملی افادیت کو واضح کرتا ہے۔

494 ملین: سبز تبدیلی سے صنعتی ترقی کا فروغ
2024 میں ، چین کی جانب سے صارفی اشیاء کی "ٹریڈ ان پالیسی” کے نفاذ کے بعد سے، اس نے کل 494 ملین افراد کو فائدہ پہنچایا ہے، جس سے متعلقہ اشیاء کی فروخت 3.92 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی ہے۔ ذیلی اعداد و شمار صارفین کی اپ گریڈنگ اور سبز ترقی کے نئے رجحانات بھی ظاہر کرتے ہیں: ٹریڈ ان گاڑیوں میں نئی توانائی والی گاڑیوں کا تناسب 60 فیصد رہا، گھریلو برقی آلات میں اعلیٰ توانائی افادیت رکھنے والی مصنوعات کا حصہ 90 فیصد سے زائد رہا، جبکہ ڈیجیٹل مصنوعات میں درمیانے اور اعلیٰ درجے کے ماڈلز کا تناسب 72.5 فیصد تک پہنچ گیا۔
یہ پالیسی نہ صرف عوام کو حقیقی فوائد فراہم کرتی ہے اور کھپت کی صلاحیت کو متحرک کرتی ہے، بلکہ صارفین کی مانگ کے ذریعے سبز، کم کاربن اور اسمارٹ مصنوعات کے فروغ کو بھی تیز کرتی ہے۔ اس طرح معیارِ زندگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ معیشت کی سبز منتقلی کو مضبوط رفتار ملتی ہے اور پائیدار ترقی کی ایک نئی راہ ہموار ہوتی ہے۔

98 فیصد :بنیادی سطح پر موثر گورننس سے عوامی تحفظ کا فروغ
2025 میں، چین میں عوامی احساسِ تحفظ کی شرح 98.23 فیصد تک پہنچ گئی، جو مسلسل چھ برسوں سے 98 فیصد سے زائد چلی آ رہی ہے۔”تحفظ” چین کی ایک نمایاں قومی شناخت بن چکا ہے۔
اس بلند شرح کے پیچھے سماجی تحفظ عامہ کے نظام کی مسلسل بہتری، بنیادی سطح پر حکمرانی کی کارکردگی میں مسلسل بہتری اور اس تصور کی عملی تعبیر کارفرما ہے کہ "عوامی تحفظ بنیادی ترین عوامی بہبود” ہے۔ چین نے لوگوں کی سلامتی کے لیے ایک محفوظ نیٹ ورک تشکیل دیا ہے ، جس سے عوام کا احساسِ تحفظ و خوشحالی نمایاں طور پر بڑھا ہے۔
حالیہ عرصے میں امریکہ میں زیرِ بحث آنے والی اصطلاح "قتل کی حد” نے وہاں کے سماجی تحفظ کے نظام کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، جہاں ایک بیماری یا کرائے کی ادائیگی میں تاخیر بھی عام شہریوں کو بقا کے بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ اس کی جڑ امریکی طرز کے سرمایہ دارانہ نظام میں منافع کو اولیت دینے کی منطق میں ہے، جہاں کمزور طبقات کے بقا اور ترقی کے حقوق کو بے رحمی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، چین میں شہری اور دیہی علاقوں کی متوازن ترقی کو فروغ دینے کے عظیم منصوبے سے لے کر مخصوص صارفی اشیاء کی تجارت تک، اور ایک مضبوط عوامی حفاظتی نیٹ ورک کی تعمیر تک، "انسان” ہمیشہ ترقی کا نقطہ آغاز اور مقصد ہے۔
یہی چینی طرزِ ترقی کی بنیادی راہ ہے: ترقی کی رفتار کے ساتھ ساتھ معیارِ ترقی پر زور دیا جاتا ہے ، موجودہ عوامی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے طویل مدتی منصوبے تشکیل دیے جاتے ہیں اور ہر ایک شہری کی خوشحالی اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اپنائے جاتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.